لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے مذہبی و سیاسی جماعت پر پابندی کے حوالے سے اپنا کیس تیار کر کے وفاق کو بھجوا دیا ہےاور آج کابینہ کے اجلاس میں اس سے متعلق فیصلہ متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی کے حالیہ احتجاج کے بعد صوبائی حکومت نے امن و امان برقرار رکھنے اور اسلحے کے غلط استعمال کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں۔ 28 اسلحہ ڈیلرز کے لائسنس معطل کر دیے گئے ہیں، جب کہ غیر قانونی ڈیلرز کی دکانیں سیل کی گئی ہیں۔

وزیر اطلاعات نے اعلان کیا کہ اب پنجاب میں کسی کو بھی نیا اسلحہ لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا اور اسلحے کی خرید و فروخت پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل ہوگا۔ 

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ اس وقت صوبے میں 10 لاکھ سے زائد شہریوں کے پاس اسلحے کے لائسنس موجود ہیں، جس کے باعث امن و امان برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔47 ہزار 918 سیکیورٹی کمپنیوں اور مختلف اداروں کے پاس 42 ہزار سے زائد لائسنس موجود ہیں۔

صوبائی وزیر نے میڈیا کو کچھ تحقیقی تفصیلات اور تصاویر بھی دکھائیں، جن کے مطابق ٹی ایل پی سے تعلق رکھنے والے افراد ماضی کے احتجاج کے دوران پولیس سے اسلحہ، گولیاں اور دیگر سازوسامان چھین چکے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کا طریقہ واردات ہے، وہ پولیس کو گھیر کر گاڑیاں، اسلحہ اور آنسو گیس گنز چھین لیتے ہیں اور بعد میں انہی کو استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ 2021 کے احتجاج میں مظاہرین نے 3498 آنسو گیس کے شیل، 23 آنسو گیس گنز، 326 اینٹی رائٹ کٹس، 2 پستول اور 11 سب مشین گنز چھینیں اور حالیہ احتجاج میں پولیس پر فائر کی جانے والی گولیاں انہی ہتھیاروں سے مطابقت رکھتی ہیں۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ حالیہ مظاہروں کے دوران آٹھ پولیس گاڑیاں نقصان پہنچائیں گئیں، جب کہ مظاہرین نےایک سب مشین گن، دو 12 بور پستول، 945 گولیاں، 197 ہیلمٹ، 22 کٹس، 130 سیفٹی شیٹس، ایک آنسو گیس گن اور 984 آنسو گیس شیل پولیس سے چھینے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ٹی ایل پی سے متعلق مقدمات پر تیزی سے کارروائی کے لیے ایک خصوصی پراسیکیوشن سیل قائم کیا گیا ہے،

جس کے تحت 559 ملزمان کو جسمانی ریمانڈ پر بھیجا گیا، 161 کو جیل، جب کہ 190 کو عدالتی ریمانڈ پر رکھا گیا ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت ریاستی رٹ کے قیام اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔