ریلوے حکام کے مطابق بلوچستان میں ٹرین آپریشنز معمول پر لانے کے اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور ہفتے کے روز جعفر ایکسپریس کی روانگی کے ساتھ ہی صوبے کا ملک بھر سے ریلوے رابطہ ایک بار پھر بحال ہو گیا ہے۔
جعفر ایکسپریس مقررہ شیڈول کے مطابق کوئٹہ ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہوئی، جبکہ پشاور سے کوئٹہ کے لیے واپسی سروس بھی اپنے مقررہ وقت پر چلائی جائے گی۔ ٹرین سروس کی بحالی سے نہ صرف مسافروں کو سہولت میسر آئے گی بلکہ دونوں شہروں کے درمیان تجارتی اور سماجی روابط کو بھی فروغ ملے گا۔
ریلوے ذرائع کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد ٹرین آپریشنز بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسٹیشنوں اور ریلوے تنصیبات کی سیکیورٹی مزید مؤثر بنانے کے لیے بھی اضافی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ مسافروں کو محفوظ سفر کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
واضح رہے کہ کوئٹہ اور پشاور کے درمیان چلنے والی جعفر ایکسپریس بلوچستان اور خیبرپختونخوا کو ملانے والی اہم مسافر ٹرین ہے۔ گزشتہ اتوار کو چمن ریلوے کراسنگ کے قریب ہونے والے خودکش حملے کے بعد سیکیورٹی خدشات کے باعث اس ٹرین کی سروس عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھی۔
ریلوے حکام کے مطابق حملے کے وقت جعفر ایکسپریس روانگی کی تیاریوں میں مصروف تھی، تاہم واقعے کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت ٹرین کو روانہ ہونے سے روک دیا گیا۔ بعد ازاں مسافروں کو سفر منسوخ ہونے کی اطلاع دی گئی اور ٹکٹوں کی رقم واپس لینے کی ہدایت جاری کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں: تمباکو اور نکوٹین مصنوعات عوامی صحت کے لیے خطرہ ہیں: صدر زرداری
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر دو روز بعد ٹرین سروس بحال کر دی گئی تھی، تاہم بعض انتظامی اور سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بدھ کے روز اسے دوبارہ معطل کر دیا گیا۔ اس دوران ریلوے انتظامیہ نے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا اور صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد آپریشن مکمل طور پر بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔
ہفتے کے روز جعفر ایکسپریس کی روانگی کے موقع پر ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ کئی مسافروں نے ٹرین سروس کی بحالی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے سفر کے مسائل میں کمی آئے گی اور بلوچستان کے عوام کو دوبارہ ملک کے مختلف شہروں تک آسان رسائی حاصل ہو سکے گی۔
پاکستان ریلوے کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں ٹرین آپریشنز کو محفوظ اور بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ بلوچستان سمیت حساس علاقوں میں سیکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ مسافروں کا اعتماد بحال رہے اور ریلوے نظام معمول کے مطابق کام کرتا رہے۔







