گوجرہ میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کا تین روزہ کسان روڈ کارواں کے اختتام پر خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس کسان کارواں میں شریک پورے ملک میں زراعت اور کسانوں کی آواز بلند کرنے والے لوگ شامل ہیں، یہ اتحاد سیاسی نہیں بلکہ خدمت کا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ زراعت کے فروغ کے بجائے حالیہ پالیسیوں نے اس شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی نااہلی اور مخصوص طبقات کے مفادات نے پاکستان کی زرعی معیشت کو کمزور کیا ہے۔ زرعی ان پٹس خاص طور پر یوریا، ڈی اے پی اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کی جائے۔

امیر جماعتِ اسلامی کا کہنا تھا کہ گندم کی امدادی قیمت 4500 روپے فی من مقرر کی جائے، اگر آئی پی پیز کے لیے دو ہزار ارب روپے دئیے جا سکتے ہیں تو کسانوں کو سہولت کیوں فراہم نہیں کی جا سکتی۔

حافظ نعیم الرحمن نے ملک میں سماجی اور اقتصادی ناانصافیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے زمیندارانہ نظام، قرضوں اور تعلیم کے شعبے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بڑھ کر ظلم کوئی نہیں ہو سکتا کسان کس پر اعتبار کرے، حکومت کی طرف سے اعلان ہوتا ہے اور وہ پیچھے ہٹ جائیں پھر وہی گندم 21 سو میں خرید کر آگے 3800 میں بیچ دی جاتی ہے، یہ نا انصافی نہیں تو اور کیا ہے۔

انہوں نے وعدہ کیا کہ جماعتِ اسلامی لینڈ ریفارم کریگی اور جاگیر دارانہ نظام کا خاتمہ کر کے چھوٹے کسانوں کو زمین کا حق دلائے گی۔ نیز کسانوں کے ٹیکس معاف کرنے، بارش یا قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں کے لیے خصوصی امداد اور بچوں کی تعلیم کے لیے خصوصی اقدامات کے بھی مطالبات کیے گئے۔

حافظ نعیم الرحمن نے خطاب میں عدالتی نظام پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ عدل و انصاف دولت کی بنیاد پر دستیاب ہے اور غریب کو انصاف نہیں ملتا۔سالوں سے کیسز پڑے ہیں اور جج صاحبان اُن کو حل ہی نہیں کر رہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر بااختیار لوکل باڈیز، منتخب نمائندے اور غازی کورٹس کے قیام سے انصاف اور مسائل کا فوری حل ممکن ہے۔

اختتامی کلمات میں انھوں نے کہا جماعتِ اسلامی کا اتحاد عوام، کسانوں، مزدوروں، طلبہ اور نوجوانوں کے ساتھ ہے۔ ہم خواتین کے حقوق اور معیاری تعلیم کے لیے بھی آواز اٹھائیں گے۔

انھوں نے اعلان کیا کہ جماعتِ اسلامی پورے پاکستان میں کسانوں کے ساتھ مظاہروں اور تنظیمی مہمات جاری رکھے گی تاکہ کسانوں کے مسائل کا مستقل حل نکالا جا سکے۔