اسلامی جمعیت طلبہ کے مطابق حملے میں تین طلبہ زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ متاثرہ طلبہ کا دعویٰ ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق سندھ شاگرد تنظیم سے تھا، جبکہ حملہ آوروں نے ماسک اور کپڑوں سے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے۔

طلبہ کے مطابق ڈنڈوں سے مسلح افراد نے جامعہ میں خوف و ہراس پھیلایا، جن میں بعض افراد جامعہ کراچی کے طالب علم بھی نہیں تھے۔ زخمی ہونے والے طلبہ میں شاہ زیب بھی شامل ہیں، جن کا تعلق سندھ سے بتایا جاتا ہے۔

اسلامی جمعیت طلبہ کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی طلبہ کو فون کالز کے ذریعے دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں اور اس حوالے سے ویڈیوز بھی منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔

 تنظیم کے مطابق شاہ زیب پر حملہ لسانی نہیں بلکہ جامعہ کے پرامن تعلیمی ماحول کو خراب کرنے کی کوشش ہے، جب کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے طالب علم پر حملہ قوم پرستی کے نام پر تشدد کی حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔

اسلامی جمعیت طلبہ نے مؤقف اختیار کیا کہ طلبہ کو زبان اور قومیت کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش ناقابلِ قبول ہے اور جامعہ کراچی علم و تعلیم کا مرکز ہے، نہ کہ لسانی یا گروہی تشدد کا۔

تنظیم نے الزام عائد کیا کہ واقعے کے دوران جامعہ انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی اور تاحال ذمہ دار افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اسلامی جمعیت طلبہ نے مطالبہ کیا ہے کہ سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کی مدد سے حملہ آوروں کی فوری شناخت کی جائے، جامعہ میں بیرونی عناصر کے داخلے کی تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی اور تادیبی کارروائی کی جائے اور جامعہ انتظامیہ طلبہ کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے۔

تنظیم نے خبردار کیا کہ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو آئندہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کی ذمہ داری جامعہ انتظامیہ پر ہوگی۔

دوسری جانب حملے کی ایف آئی آر درج نہ کیے جانے کے خلاف زخمی طلبہ اور اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان نے مبینہ ٹاؤن تھانے کے باہر احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ متعدد طلبہ زخمی ہونے کے باوجود پولیس اب تک مقدمہ درج نہیں کر رہی، جس کے باعث متاثرہ طلبہ اور ان کے ساتھیوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حملے میں ملوث افراد کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے، ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور زخمی طلبہ کو انصاف اور قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔

اسلامی جمعیت طلبہ کراچی نے صحافیوں، رپورٹرز، فوٹوگرافرز اور کیمرہ پرسنز سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ احتجاج کی کوریج کے لیے مبینہ ٹاؤن تھانے پہنچیں۔