پنجاب یونیورسٹی ہال کونسل کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق طلبہ و طالبات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 25 مئی 2026 سے 28 اگست 2026 تک موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران اپنے ہاسٹلز خالی کریں۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ گرمیوں کی چھٹیوں کے باعث ہاسٹل 25 مئی 2026 سے بند ہوں گے ۔

انتظامیہ کی جانب سے فائنل ائیر کے طلبہ و طالبات کو متعلقہ ایچ او ڈیز سے اجازت نامے کے تحت 15 جون تک کی مہلت دی ہے ۔

اس نوٹیفکیشن کے خلاف اسلامی جمعیت طلبا کے زیرِ اہتمام پنجاب یونیورسٹی کے ایس ٹی سی لان میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں مختلف ہاسٹلز کے طلبا نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے نوٹیفکیشن کو  طلبا دشمن فیصلہ  قرار دیتے ہوئے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔


ناظم جامعہ پنجاب، احسن فرید نے پاکستان میٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کا یہ فیصلہ طلبا کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔

 خواتین طالبات کو بھی اس فیصلے سے مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ بعض طالبات فوری طور پر اپنے گھروں کو منتقل نہیں ہو سکتیں۔

 انہوں نے کہا کہ انتظامیہ فوری طور پر مذاکرات کرے اور نوٹیفکیشن واپس لے۔

احسن فرید نے مزید کہا کہ ہم اس مسئلہ کا پر امن حل چاہتے ہیں، انتظامیہ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ آئیں اور ہمارے ساتھ مذاکرات کرے ۔

اگر ہمارے مطالبات نا مانے گئے تو ہم دھرنے کی کال دیں گے اور کیمپس پل کو بند کر دیں گے۔ 

 انہوں نے کہا کہ طلباء فائنل ایئر کے تھیسس، ریسرچ پراجیکٹس اور انٹرنشپس میں مصروف ہیں، جبکہ کئی طلبا مالی مسائل کے باعث نجی رہائش یا کرائے کے کمروں کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔ 

احتجاج میں شریک طلبہ نے اس نوٹیفکیشن کے خلاف وائس چانسلر اور یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف نعرے  بازی کرتے ہوئے کہا کہ اگر نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس نا لیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ 

 ہاسٹلز کی بندش سے ہماری تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوں گی، خصوصاً وہ طلبا جو ریسرچ ورک، پراجیکٹس اور انٹرنشپس میں مصروف ہیں۔

 طلبا نے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات سے بھی اپیل کی کہ وہ معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے نوٹیفکیشن فوری طور پر ملتوی کروائیں تاکہ طلبا کو درپیش رہائشی اور تعلیمی مشکلات کا حل نکالا جا سکے۔