وزیرِاعلیٰ کے پی بانی پی ٹی آئی سے ملنے آج اڈیالہ جیل پہنچے، مگر انہیں عمران خان سے ملنے کی اجازت نہ دی گئی، اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سُہیل آفریدی نے شدید احتجاج کیا اور کہا کہ میں ایک صوبے کے ساڑھے چار کروڑ عوام کا نمائندہ ہوں، آٹھویں بار اسمبلی میں آیا ہوں، پھر بھی مجھے اپنے قائد سے ملنے کی اجازت نہیں مل رہی۔

 سُہیل آفریدی نے کہا کہ مجھے بانی پی ٹی آئی و سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، ایک صوبے کے منتخب نمائندے کے ساتھ اس طرح کا سلوک پوری صوبائی قیادت کی تذلیل کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک صوبے کے منتخب نمائندے کے ساتھ اس طرح کا سلوک پوری صوبائی قیادت کی تذلیل کے مترادف ہے۔

سُہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر ہم بھی آپ کے نمائندوں کے ساتھ ایسا کریں تو کیسا لگے گا؟ میں ملنے آیا ہوں اور ملاقات کیے بغیر نہیں جاؤں گا، چاہے یہاں بیٹھنا پڑے۔

دوسری جانب رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے کہا ہے کہ یہ کوئی گپ ہے کہ میرے 5 کروڑ عوام کے وزیراعلیٰ کو سڑک پر بٹھا دیں، یہ ایکشن کر رہے ہیں، ہم ری ایکشن دینگے۔

انہوں نے کہا کہ خان کی صحت اور وزیراعلیٰ کو سڑک پر بٹھانے پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، اِن کے باپ کا مُلک نہیں، جب ہم چڑھائی کرتے ہیں تو کہتے ہیں بدمعاشی کر رہے ہیں۔