پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ میں آپریشن کے باعث لوگ بے گھر ہو رہے ہیں۔ گزشتہ آپریشن میں متاثرین کو چار لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن ابھی تک کچھ نہیں ملا۔ قبائلی علاقے ہمارے پرامن علاقے تھے، جہاں اب حالات خراب ہیں۔ شدید ترین سردی میں لوگوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے۔ جماعت اسلامی تیراہ کے متاثرین کے ساتھ ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ آج سے دس پندرہ سال پہلے بھی بڑے وعدے کیے گئے تھے کہ یہ سب امن کے لیے ہو رہا ہے اور دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ کسی ملک کے اندر لاکھوں لوگ آئی ڈی پیز بنے۔ آج پھر وہی سب کچھ دہرایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے جھگڑے سے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ دونوں ممالک کو یہ ممکن بنانا چاہیے کہ ان کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہو۔ اسلامی ممالک کے درمیان لڑائی سے اسرائیل، امریکا اور انڈیا خوش ہوتے ہیں۔ افغانستان میں پھنسے طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہے، جب کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی سے تجارت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط ہونا چاہیے، بااختیار مقامی حکومتیں ہونی چاہئیں۔ مقامی حکومتوں کو توسیع نہیں دینی چاہیے۔ بلدیاتی حکومتوں کو مضبوط کرنے کے حوالے سے کوئی سیاسی جماعت بات نہیں کرتی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آپ سب دیکھ رہے ہیں کہ پچھلے تین دن سے کراچی میں کیا ہو رہا ہے۔ یہ دعوے تو بڑے کرتے ہیں، مگر ساڑھے تین کروڑ آبادی کے شہر میں آگ بجھانے کا مؤثر نظام موجود ہی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہم سے پورا ٹیکس وصول کرتے ہیں، مگر صورتحال یہ ہے کہ آگ تک نہیں بجھائی جا رہی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 17 سال سے کراچی میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور کراچی کا بیڑا غرق کر دیا گیا ہے۔ کراچی منی پاکستان ہے، ہم کراچی کی بات کرتے ہیں تو پورے پاکستان کی بات ہوتی ہے۔ کراچی کا میئر جماعت اسلامی کا تھا، جو چھین لیا گیا۔ کراچی سانحے پر حکمرانوں نے بے حسی کا مظاہرہ کیا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ عوام مہنگی بجلی استعمال کرنے پر مجبور ہے۔ رمضان المبارک کے بعد جماعت اسلامی ایک بار پھر سڑکوں پر آئے گی اور اب ہم معاہدوں پر اعتبار نہیں کریں گے۔






