ذرائع کے مطابق اس واقعہ میں مجموعی طور پر پانچ افراد ملوث تھے جس میں سلیمان،امان، وقاص،الفت، طلعت ہیں، جنہوں نے مبینہ طور پر موقع پر ظلم و زیادتی میں حصہ لیا۔ اطلاعات کے مطابق ان پانچ میں سے دو ملزمان الفت اور امان وقوعہ کے بعد بیرون ملک فرار ہو چکے ہیں، جبکہ باقی تین میں سے دو سلیمان اور وقاص کو پولیس نے گرفتار کر کے تھانہ ڈومیلی میں رکھا ہوا ہے۔ ایک ملزم راجا طلعت عبوری ضمانت پر رہا ہے۔
مدعی نے سارے ثبوت پولیس کو مہیا کردیے اس کے باوجود پولیس بار بار انکوائیری رکھوا رہی ہے تاکہ جو ملزم عبوری ضمانت پر ہے اسے کسی طرح سے درمیان میں سے نکالا جاۓ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعہ کے وقت موجود افراد اور شواہد کی بنیاد پر کیس کی تفتیش جاری ہے، تاہم بعض حلقوں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جہلم پولیس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گرفتار ہونے والے دونوں ملزمان کی تصاویر تاحال جاری نہیں کی گئیں، جس سے شفافیت پر سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔
مقامی افراد اور متاثرہ فریق کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش مکمل طور پر میرٹ، ٹھوس شواہد،سی سی ٹی وی فوٹیج اور موبائل کالز کی سی ڈی آر کی بنیاد پر کی جائے اور تمام ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ انصاف کی بروقت اور غیر جانبدار فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
یہ واقعہ علاقے میں شدید تشویش اور خوف کا باعث بنا ہوا ہے، جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد حکام جناب پنجاب کی وزیراعلی مریم نواز اور ڈی پی او جہلم سے فوری، شفاف اور بلاامتیاز کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔







