سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں سعد رفیق نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس منصور علی شاہ کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے بھی مستعفی ہوکر عدلیہ میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو ظاہر کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اطہر من اللّٰہ ججز بحالی تحریک کے دوران فرنٹ لائن کے ساتھی رہے اور اپنی دیانتداری کے باعث ہمیشہ قابلِ احترام رہے۔ جسٹس منصور علی شاہ کو انہوں نے ایک باوقار اور دباؤ سے آزاد جج قرار دیا جبکہ جسٹس شمس محمود مرزا کے بارے میں کہا کہ وہ لاہور ہائیکورٹ کے باوقار ججز میں شمار ہوتے ہیں۔
لیگی رہنما کے مطابق حالیہ استعفوں کا موازنہ پہلے استعفوں سے جوڑنا ناانصافی ہوگا، عدالتی توازن کے لیے ان ججز کی موجودگی ’دمِ غنیمت‘ تھی۔ انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے کے باوجود وہ ہمیشہ ان جج صاحبان کی قابلیت اور انصاف پسندی کے معترف رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں استعفوں پر خوشی کے ڈھول پیٹنے کے بجائے اُن فالٹ لائنز کو پُر کرنا ضروری ہے جو اس عمل کے نتیجے میں پیدا ہورہی ہیں۔ ان کے مطابق استعفوں کا یہ سلسلہ شاید یہیں نہ رکے بلکہ عدلیہ سے پارلیمنٹ تک پھیل سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ہر مخالف کو دشمن قرار دینا ممکن نہیں، ایک ذمہ دار ریاست معاملات کو ٹھنڈا رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمنوں میں گھرا نیوکلیئر پاکستان اندرونی محاذ آرائی کا زیادہ متحمل نہیں ہوسکتا۔







