منصورہ میں جماعت اسلامی کی مرکزی تربیت گاہ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے حکمرانوں اور طاقتور طبقے کو مخاطب کیا اور کہا کہ عوام کا راستہ بند نہ کیا جائے، جمہوری عمل کو روکنے کے لیے آر ٹی ایس اور فارم 47 جیسے طریقے ترک کیے جائیں۔ طاقتوروں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کا سلسلہ بند کردیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کا حکمران طبقہ نئی نسل، خصوصاً جنریشن زی سے خوفزدہ ہے، اسی لیے نوجوانوں کے لیے تعلیم اور روزگار کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔ حالات سے مایوس نوجوان نسل منشیات کا شکار ہو رہی ہے، جو ایک سنگین قومی المیہ ہے۔
امیر جماعتِ اسلامی نے یہ اعلان کیا کہ جماعت اسلامی نے نوجوانوں کی فکری اور اخلاقی تربیت کے لیے زی-کنیکٹ پروگرام شروع کیا ہے تاکہ نوجوانوں کو نظام کے جبر کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں خواتین کو وراثت کے حق سے محروم رکھنا ایک عام رواج بن چکا ہے جو صریح ظلم ہے، جب کہ دین کی اصل تعلیمات کے خلاف رسم و رواج کو جاری رکھنا بت پرستی کے مترادف ہے۔ نظام کی تبدیلی کے بغیر دعوت اور اصلاح کا کام محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے ملکی تاریخ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یحییٰ خان، شیخ مجیب الرحمٰن اور ذوالفقار علی بھٹو ملک ٹوٹنے کے ذمہ دار تھے، جب کہ شیخ مجیب کی بیٹی کے دور میں بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی پر شدید مظالم ڈھائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ آج بنگلہ دیش کے عوام کی بڑی اکثریت انڈیا سے نفرت کرتی ہے اور وہاں جماعت اسلامی ایک بڑی سیاسی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین میرے دورِ حکومت میں تائیوان کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کرے گا، صدرٹرمپ
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی میں تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہو سکتے ہیں اور جماعت اسلامی اقامتِ دین کی جدوجہد کر رہی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ فرسودہ اور ظالمانہ نظام کے خلاف جدوجہد کے لیے جماعت اسلامی کے دروازے ہر فرد کے لیے کھلے ہیں اور عوام بالخصوص نوجوانوں کی طاقت سے ملک میں حقیقی تبدیلی لائی جائے گی۔







