جماعتِ اسلامی پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر کے 25 شہروں میں بڑے عوامی جلسے منعقد کیے جائیں گے، جن کا مقصد موجودہ نظام کی تبدیلی اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنا ہوگا۔

اعلامیے کے مطابق جماعتِ اسلامی نے جنریشن زی کو بااختیار بنانے کے لیے جامع منصوبہ بندی کرلی ہے۔  نوجوانوں اور بچیوں کو نعروں کے پیچھے لگانے کے بجائے انہیں مفت آئی ٹی تعلیم فراہم کی جائے گی تاکہ وہ باعزت روزگار حاصل کرسکیں۔ اس سلسلے میں زی-کنیکٹ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے تمام مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ جماعتِ اسلامی بیوروکریسی سے اختیارات چھین کر انہیں بلدیاتی اور مقامی شہری حکومتوں کے حوالے کرنے کی تحریک چلائے گی، جب کہ ملک میں موجود طبقاتی تقسیم، امیر کے لیے مراعات اور غریب کے استحصال پر مبنی نظام کے خاتمے کا بھی اعلان کیا گیا۔

اعلامیہ میں عام پاکستانی بچوں اور بچیوں کو اسپورٹس کے میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع دینے کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گھریلو خواتین کے لیے "بنوقابل پروگرام" کے تحت مفت آئی ٹی ٹریننگ فراہم کرکے انہیں باعزت روزگار کے قابل بنانے کا اعلان کیا گیا۔

آخر میں جماعتِ اسلامی نے واضح کیا کہ کشمیر اور فلسطین جماعت، پاکستان کے 25 کروڑ عوام اور پوری امتِ مسلمہ کی ریڈ لائن ہیں اور ان کے مؤقف پر سودا کرنے والوں کو "عبرت کا نشان" بنایا جائے گا۔