اجتماع کے دوسرے دن ملک بھر سے آئے لاکھوں افراد، خواتین، بچے اور بیرونِ ملک سے آئے کارکنان میدان میں موجود ہیں، جس سے تاریخی میدان مکمل طور پر بھر گیا۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حقیقی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک موجودہ جاگیردارانہ، بیوروکریٹک اور سرمایہ دارانہ قبضہ ختم نہ کیا جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اجتماع کے آخری دن یعنی کل جماعت اسلامی ملک کے لیے ایک جامع اور عملی پروگرام پیش کرے گی جس میں سیاسی، معاشی، تعلیمی اور بلدیاتی اصلاحات شامل ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ اب پاکستان میں وہ نظام نافذ ہوگا جو عام آدمی کی ضروریات اور حقوق کے مطابق ہوگا، نہ کہ چند طاقتور خاندانوں یا طبقوں کے مفادات کے تابع۔ حافظ نعیم نے مزید واضح کیا کہ آئندہ نظام میں کسی ادارے کے سربراہ، صدر یا وزیر اعظم کے لیے استثنیٰ نہیں ہوگا اور ملک میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے گا۔

 

حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اللہ کے قوانین کے مقابلے میں کوئی انسان طاقتور نہیں ہو سکتا، اور مینارِ پاکستان کے سائے تلے لاکھوں لوگ اس بات کا عہد کر چکے ہیں کہ وہ کسی غیر اللہ کی بالادستی قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی میں قیادت وراثت یا خاندان کی بنیاد پر نہیں بلکہ اصولی جدوجہد اور عوامی خدمت پر مبنی ہوتی ہے اور وراثتی یا خاندانی جماعتیں حقیقی انقلاب نہیں لا سکتیں۔

انہوں نے عالمی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دھوکے کے ذریعے اقتدار میں آنے والے امریکا سے نہیں ڈرتے، اور حالیہ اقوام متحدہ کی فلسطین سے متعلق قرارداد میں پاکستان کی حمایت نہیں ہونی چاہیے تھی۔

واضع رہے کہ خطاب کے آخر میں حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن طریقے سے شعور بیدار کرنے اور عوامی حقوق کے مطابق نظام کی تبدیلی لانے کے لیے ملک گیر جدوجہد جاری رکھے گی۔ تعلیم، مزدوروں کی مشکلات، کسانوں پر جاگیردارانہ قبضہ اور بیوروکریسی کی بالا دستی جیسے مسائل بنیادی مسائل ہیں جن کے خلاف جماعت اسلامی تحریک جاری رکھے گی۔