پولیس کے مطابق مظاہرین کی جانب سے سڑک بند کرنے کے واقعے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، جب کہ ایمبولینس سمیت عام شہریوں کو بھی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
تفصیلات کے مطابق ایف آئی آر مین درج کیا گیا کہ تھانہ ٹیپو سلطان کے روزنامچہ عام کی رپورٹ نمبر 18، مؤرخہ یکم فروری 2026 کے تحت ایس ایچ او/سب انسپکٹر اظہر خان اپنے عملے، اسسٹنٹ سب انسپکٹر عبدالغفار، پولیس کانسٹیبل عادل بخش اور پولیس کانسٹیبل عرفان خان کے ہمراہ سرکاری موبائل گاڑی میں جرائم کی روک تھام کے لیے گشت پر موجود تھے۔ دورانِ گشت تقریباً شام چار بجے جب پولیس پارٹی شاہراہِ فیصل پر صدر جانے والے ٹریک پر پہنچی تو وہاں ایک سیاسی جماعت کے تقریباً آٹھ سو سے ایک ہزار کارکنان موجود تھے، جن میں مرد و خواتین شامل تھے۔
متن کے مطابق مظاہرین کی قیادت امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر، منظر عالم، راشد، سلیم اور دیگر نامعلوم افراد کر رہے تھے، جو مختلف گاڑیوں اور پیدل وہاں پہنچے تھے۔ کارکنان نے اپنے قائدین کی قیادت میں مشترکہ نیت کے تحت شاہراہِ فیصل پر ٹریفک اور ایمبولینسوں کو روک رکھا تھا، جس کے باعث عوام اور مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مظاہرین بغیر اجازت انتظامیہ سڑک پر جمع ہوئے، نعرے بازی کرتے رہے اور بیلہ کی صورت میں سڑک بلاک کر کے کھڑے رہے۔ بعض کارکنان نے تیز دھار آلات کے ذریعے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، جبکہ سڑک پر خیمے اور جھنڈے نصب کر کے ٹریفک مکمل طور پر معطل کر دی گئی۔ یہ صورتحال شام سات بج کر تیس منٹ تک جاری رہی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ بالا قائدین اور ان کے ہمراہ موجود آٹھ سو سے ایک ہزار افراد کا یہ عمل تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 147، 149، 427 اور 341 کے تحت قابلِ تعزیر جرم بنتا ہے، جس پر پولیس نے تھانے واپس آ کر مقدمہ درج کر لیا۔ ایف آئی آر کی نقول حسبِ ضابطہ تقسیم کر دی گئی ہیں جبکہ مقدمے کی مزید تفتیش انچارج کرائم انویسٹی گیشن سیل کے سپرد کر دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کراچی میں ’جینے دو کراچی کو‘ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کراچی منی پاکستان ہے اور تین کروڑ آبادی کی نمائندگی کرتے ہوئے عوام شاہراہِ فیصل پر جمع ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس شہر کے نوجوان تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگر حکمران نہیں چاہتے کہ یہ آگے بڑھیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے سندھ اسمبلی کے باہر 14 فروری کو دھرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دھرنے کے دوران روزہ بھی رکھا جائے گا، تراویح بھی ادا کی جائیں گی اور حق لے کر ہی اٹھا جائے گا۔







