جماعت اسلامی کے ترجمان کے مطابق امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی ہدایت پر نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کی سربراہی میں قائم کشمیر کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر غور کے بعد امن جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق امن جرگہ وزیراعظم، صدر مملکت، ریاستی اداروں کی قیادت، آزاد جموں و کشمیر حکومت، سیاسی جماعتوں، دینی رہنماؤں اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے ملاقاتیں اور رابطے کرے گا تاکہ موجودہ کشیدگی کے پرامن حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔

امن جرگے میں امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان، میاں محمد اسلم، عبدالرشید ترابی، ڈاکٹر خالد محمود خان، جہانگیر خان، نصر اللہ رندھاوا، کاشف چوہدری، شکیل احمد ترابی، سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان، سابق وزیر فرزانہ یعقوب، جاوید مقبول بٹ، خواجہ سلیم بسمل، سلیم گردیزی، راجہ آفتاب، عمر شہزاد جرال، سابق چیف جسٹس (ر) سید منظور گیلانی، سابق جسٹس سردار عبدالحمید، سینئر صحافی زاہد تبسم، عارف بہار، بریگیڈیئر (ر) الطاف، نائلہ الطاف کیانی، سردار فاروق تبسم، مولانا سید عطا اللہ شاہ اور مولانا امتیاز صدیقی سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات شامل ہیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ موجودہ ڈیڈ لاک سے مسئلہ کشمیر اور تحریک آزادی کو نقصان پہنچ رہا ہے، اس لیے تمام فریقین مذاکرات اور امن کا راستہ اختیار کریں اور انا و ہٹ دھرمی سے گریز کریں۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کو پرامن رکھنا مظاہرین کی ذمہ داری ہے، جب کہ ریاست بھی ایسا ماحول پیدا نہ کرے جس سے احتجاج تشدد کی شکل اختیار کرے۔ ان کے بقول دونوں جانب سے طاقت کا استعمال اور انسانی جانوں کا ضیاع افسوسناک ہے اور مسائل کا مستقل حل صرف مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت اور ریاستی ادارے اس معاملے کا حل نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت، بشمول اپوزیشن، بھی اپنی ذمہ داری ادا کرے اور امن کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کرے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پہلے سے تسلیم شدہ مطالبات پر عمل درآمد کرتے ہوئے مذاکرات کا آغاز کرے، جبکہ آزاد کشمیر میں بروقت، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جا سکے۔