فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جاری آپریشن ’غضب للحق‘ کا مقصد دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی مسلسل نگرانی میں جاری رہے گی تاکہ مستقبل میں ایسی کمین گاہیں دوبارہ قائم نہ ہو سکیں۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم مقام رکھتا ہے اور اسلامی دنیا میں اتحاد اور امید کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے ایران پر ہونے والی جارحیت کی مذمت کی اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دیا ہے۔

ملکی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احتجاج کے نام پر جلاؤ گھیراؤ اور املاک کو نقصان پہنچانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ پاکستان میں کسی واقعے کے ردعمل میں کسی دوسرے مسلمان ملک میں املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی ممکنہ طور پر کسی ڈیل کے لیے تو تیار ہو سکتی ہے، لیکن سنجیدہ سیاسی عمل یا مذاکرات کے لیے آمادہ نظر نہیں آتی، جبکہ ملکی مفاد کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر 2018 میں عمران خان کا سیاسی منصوبہ سامنے نہ لایا جاتا تو آج پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک ہوتا۔

رانا ثنا اللہ نے زور دیا کہ دہشتگردی کسی ایک جماعت کے خلاف نہیں بلکہ پورے ملک کے خلاف ہے، اس لیے اس کے مقابلے کے لیے قومی سطح پر یکجہتی ناگزیر ہے۔