جمعیت علما اسلام کے مطابق یہ حملہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ باجوڑ اور جنوبی وزیرستان جیسے مذہبی شناخت رکھنے والے علاقوں میں امن، حریت اور اعتدال کے داعی علما مسلسل دہشتگردی کی زد میں ہیں۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران جنوبی وزیرستان میں جے یو آئی کے رہنماؤں کو بار بار نشانہ بنایا گیا۔ اس سے قبل ضلعی امیر مولانا عبداللہ ندیم بم دھماکے میں شدید زخمی ہوئے تھے، جبکہ سابق ضلعی امیر مولانا مرزا جان بھی دہشتگردی کے ایک واقعے میں شہید ہو چکے ہیں۔
جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مولانا حافظ سلطان محمد کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مخلص، بہادر اور نظریاتی ساتھی تھے۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا: بھارتی سرپرستی یافتہ 11 خوارج انسداد دہشتگردی کارروائیوں میں ہلاک
ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی اپنی آئینی، جمہوری اور پُرامن جدوجہد جاری رکھے گی، چاہے اس راہ میں کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ قومی سلامتی کے ادارے فوری طور پر امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنائیں، علما کرام کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور دہشتگرد عناصر کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔







