وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی میں عمران خان کے لیے نعرے لگاتے ہیں، لیکن وہ قیدی نمبر 804 نہیں، قیدی نمبر 420 ہے کیونکہ انہوں نے ملک کے ساتھ دھوکا کیا۔

نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ آج دنیا بھر میں یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ ایٹمی طاقت کا وزیراعظم کس طرح جادو ٹونے سے فیصلے کرتا تھا۔

 احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عمران خان کی اہلیہ ٹوٹکوں اور عملیات کی بنیاد پر فیصلوں پر اثر انداز ہوتی تھیں اور وزیراعظم ہاؤس میں بکروں کی سریاں جلائی جاتی تھیں۔

 انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس ’مداری‘ کے پیچھے لگے ہوئے تھے، انہیں اپنے بارے میں سوچنا چاہیے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والوں کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے کیونکہ ان کے لیڈر نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکا ڈالا۔

 انہوں نے کہا کہ عمران خان کا چار سالہ دورِ حکومت ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دور تھا، جس میں نوجوانوں کو صرف گالی گلوچ سکھائی گئی۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے ترقی کے انقلابی منصوبے شروع کر دیے ہیں، جب کہ پالیسیوں کی کامیابی کے لیے امن، سکون اور استحکام انتہائی ضروری ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ انڈیا شکست کا بدلہ دہشت گردی کے ذریعے لینے کی کوشش کر رہا ہے جب کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت دہشت گردوں کو تحفظ دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قربانی کے جذبے نے ہمیں ’معرکۂ حق‘ میں کامیابی دلائی۔ معرکۂ حق فوج نے جیت لیا اور اب معرکۂ ترقی ہم سویلینز نے جیتنا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے عمران خان کی ذاتی زندگی اور سیاسی معاملات میں ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے کردار سے متعلق رپورٹ شائع کی گئی ہے۔

 جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی عمران خان کے ہر فیصلے پر اثر انداز ہوتی تھیں اور سرکاری امور میں بھی انہی سے رہنمائی لی جاتی تھی۔

رپورٹ کے مطابق بنی گالہ میں بشریٰ بی بی کے آنے کے بعد مختلف رسومات اختیار کی گئیں، جن میں کالے بکرے اور مرغیوں کے سروں کو قبرستان میں پھینکوانا، کچا گوشت گھمانا اور لال مرچیں جلانا شامل تھا۔