ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم کسی ہجوم، جلسے یا جلوس کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ریاستی معاملات کو یرغمال بنائے۔
وزیرِ دفاع کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ آٹھ روز سے ہڑتال جاری ہے۔ کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ مہاجرین مقیم پاکستان کے لیے مختص 12 نشستیں ختم کی جائیں اور تنظیم پر عائد پابندی واپس لی جائے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ مہاجرین نے آزادی کی جدوجہد میں بڑی قربانیاں دی ہیں اور سرحد پار کرتے وقت اپنے خون سے تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کے حقوق صرف اس بنیاد پر سلب نہیں کیے جا سکتے کہ ایک بیرونی فنڈنگ سے چلنے والی تنظیم اس کا مطالبہ کر رہی ہے۔
وزیرِ دفاع نے سوال اٹھایا کہ جن لوگوں نے آزادی کے لیے اتنی بڑی قیمت ادا کی، ان کے حقوق کیسے ختم کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جمہوری عمل کو جاری رہنا چاہیے اور عوام کو یہ فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب وزیرِ دفاع کے ان الزامات پر جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔






