تفصیلات کے مطابق جج طاہر عباس سپرا نے سینیٹر شبلی فراز، میجر (ر) طاہر صادق اور علی نواز اعوان کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے۔ عدالت نے وزارت داخلہ کو ایک بار پھر ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے، جب کہ ان کے بھانجے حسان نیازی کے بارے میں بھی تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ پی ٹی آئی رہنما مراد سعید اور حماد اظہر کو مقدمے میں پہلے ہی اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔ یہ مقدمہ تھانہ رمنا میں درج نمبر 153 سے منسلک ہے، جس میں پی ٹی آئی قیادت پر بانی پی ٹی آئی کی عدالت میں پیشی کے دوران ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کا الزام ہے۔
مزید پڑھیں: شہباز شریف سے حافظ نعیم کا ٹیلیفونک رابطہ: حکومت کو کسی ایسے منصوبے کی حمایت نہیں کرنی چاہیے جو اسرائیل کو طاقت فراہم کرے
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ناقابلِ ضمانت وارنٹس کے بعد پولیس کسی بھی وقت ان رہنماؤں کو گرفتار کر سکتی ہے۔ سیاسی حلقوں نے اس پیش رفت کو تحریک انصاف کے لیے ایک اور بڑا جھٹکا قرار دیا ہے۔
عدالت نے کیس کی سماعت یکم نومبر تک ملتوی کر دی۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ سماعتوں میں مزید سخت فیصلے سامنے آ سکتے ہیں، جس سے پہلے ہی دباؤ کے شکار سیاسی ماحول میں مزید کشیدگی پیدا ہو گی۔







