شدید بارش کے بعد نالہ لئی اور اس سے منسلک نالوں میں پانی کی سطح ایک موقع پر 20 فٹ تک پہنچ گئی، جس پر خطرے کے سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔

چکلالہ کنٹونمنٹ کے علاقوں ڈھوک کالا خان، ممتاز ٹاؤن، بنارس ٹاؤن اور افضل ٹاؤن میں صورتحال زیادہ خراب رہی، جہاں بارش اور نالوں کا پانی گلیوں کے ساتھ گھروں میں بھی داخل ہوگیا۔

ممتاز ٹاؤن سمیت دیگر متاثرہ علاقوں کے درجنوں گھروں میں 6 فٹ تک پانی داخل ہونے سے گاڑیوں، فرنیچر اور الیکٹرانک سامان کو نقصان پہنچا، جب کہ شہری اپنی مدد آپ کے تحت گھروں سے پانی نکالتے رہے۔

شدید بارش کے باعث راولپنڈی کی متعدد اہم شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں پر بھی پانی جمع ہوگیا، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور مختلف مقامات پر ٹریفک جام ہوگیا۔

فلڈ کنٹرول روم کے مطابق اسلام آباد کے علاقے گولڑہ میں سب سے زیادہ 146 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ راولپنڈی میں واسا نے رین ایمرجنسی نافذ کردی۔

دوسری جانب بارش کا زور ٹوٹنے کے بعد نالہ لئی میں پانی کی سطح تیزی سے کم ہونا شروع ہوگئی اور صورتحال قابو میں آنا شروع ہوگئی۔

حالیہ شدید بارش نے ایک بار پھر راولپنڈی کے نشیبی علاقوں میں نکاسی آب کے مسائل اور سیلابی صورتحال کے خطرات کو نمایاں کردیا ہے۔