یہ مقدمہ ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد میں درج کیا گیا ہے، جس میں این سی سی آئی اے کے دو ایڈیشنل ڈائریکٹرز، تین ڈپٹی ڈائریکٹرز اور متعدد سب انسپکٹرز کو نامزد کیا گیا ہے۔

مقدمے کے مطابق راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں چھاپوں کے بعد ملزمان بھاری رقوم لے کر ڈیلز کرتے تھے، جب کہ ایک خاتون کے ذریعے غیر قانونی لین دین کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

متن کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر F-11 میں قائم 15 غیر قانونی کال سینٹرز سے ماہانہ بنیادوں پر کروڑوں روپے وصول کیے جاتے رہے۔

نامزد افسران میں ایڈیشنل ڈائریکٹرز شہزاد حیدر، عامر نذیر، ڈپٹی ڈائریکٹرز سلمان اعوان، حیدر عباس اور ندیم احمد خان شامل ہیں، جب کہ سب انسپکٹرز عثمان بشارت، محمد بلال، صارم علی، ظہیر عباس نیازی اور میاں عرفان پر بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

مقدمے میں ایک نجی کمپنی کے مالک حسن امیر اور ایک چینی شہری کو بھی شریکِ ملزم بنایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ملزمان نے 25 کروڑ روپے سے زائد رقم لے کر غیر قانونی کال سینٹرز کو تحفظ فراہم کیا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ایک خاتون فرنٹ پرسن کے ذریعے 13 غیر ملکیوں اور ایک پاکستانی شہری کی رہائی کے بدلے کروڑوں روپے وصول کیے گئے۔

یاد رہے کہ کچھ ماہ قبل یوٹیوبر سعدالرحمٰن عرف ڈکی بھائی کے کیس کے بعد بھی این سی سی آئی اے کے کئی افسران رشوت اسکینڈل میں گرفتار ہو چکے ہیں۔ اسی کیس کے بعد وفاقی حکومت نے ڈائریکٹر جنرل وقار الدین سید کا تبادلہ کرتے ہوئے ان کی جگہ سید خرم علی کو نیا ڈی جی تعینات کیا تھا۔