تحریک لبیک پاکستان کا احتجاجی مارچ اس وقت مریدکے میں موجود ہے اور اتوار کو یہ اپنی منزل اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگا۔ جی ٹی روڈ پر ٹی ایل پی کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود ہے، جہاں مرکزی اسٹیج سے شرکا کو مختلف ہدایات دی جا رہی ہیں۔
یہ قافلہ 10 اکتوبر کو لاہور سے روانہ ہوا تھا، تاہم پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے باعث کارکنوں کی تعداد میں کچھ کمی آئی ہے۔
ٹی ایل پی کا کہنا ہے کہ جی ٹی روڈ پر موجود شہروں سے مزید کارکن مارچ میں شامل ہوں گے، جس سے قافلہ مزید بڑا ہو جائے گا۔ذرائع کے مطابق حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان گزشتہ رات سے مذاکرات جاری ہیں اور امکان ہے کہ آج فریقین کے درمیان معاملات طے پا جائیں۔
احتجاجی مارچ کے پیش نظر مریدکے سے 18 کلو میٹر آگے سادھوکی کے قریب جی ٹی روڈ مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے، جہاں کھدائی کر کے 30 فٹ گہری اور 20 فٹ چوڑی خندق بنا دی گئی ہے تاکہ گاڑیاں وہاں سے نہ گزر سکیں۔
سادھوکی کے قریب پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے جبکہ گوجرانوالہ کی حدود میں داخلے کے مقام پر کنٹینرز بھی لگا دیے گئے ہیں تاکہ لوگوں یا گاڑیوں کی آمد و رفت ناممکن ہو جائے۔
دوسری جانب تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد رضوی، انس رضوی اور دیگر رہنماؤں کے خلاف شیخوپورہ کے تھانہ فیروز والا میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں غیرقانونی جلوس نکالنے، عوام کو اشتعال دلانے، نقص امن پیدا کرنے اور پولیس اہلکاروں پر حملے سمیت 27 دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ان میں انسداد دہشتگردی کی دفعات 6 اور 7 بھی شامل ہیں، جن میں جرم ثابت ہونے پر سزائے موت یا عمر قید ہو سکتی ہے۔ یہ مقدمہ گوجرانوالہ کے ایس ایچ او عمران نسیم بٹ کی مدعیت میں درج کیا گیا، جو مبینہ طور پر ٹی ایل پی کے کارکنوں کے حملے میں زخمی ہوئے۔
ایف آئی آر کے مطابق، جلوس کے دوران ایک ٹرالر پر لاؤڈ اسپیکر اور ڈیک لگے ہوئے تھے، جہاں سعد رضوی مائیک کے ذریعے کارکنوں کو اشتعال دلا رہے تھے۔ مقدمے میں 16 دیگر رہنماؤں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ جلوس میں دو ہزار سے زائد افراد شریک تھے، جن میں سے متعدد کے پاس ڈنڈے، پتھر اور آتشیں اسلحہ موجود تھا۔ اسی دوران 30 سے 35 افراد نے اچانک پولیس پر حملہ کر دیا اور تشدد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
واضح رہے کہ ٹی ایل پی نے لاہور سے اسلام آباد تک ’غزہ ملین مارچ‘ کا اعلان کیا ہوا ہے۔ انتظامیہ نے مختلف مقامات پر کنٹینرز لگا کر راستے بند کر دیے ہیں، جبکہ ٹی ایل پی نے الزام لگایا ہے کہ ان کے کارکنوں پر پولیس نے تشدد کیا۔ دوسری جانب پولیس کا مؤقف ہے کہ مشتعل کارکنوں نے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔
اس سے قبل میڈیا رپورٹس کے مطابق جڑواں شہروں میں راستے بند ہونے کے باعث تجارتی سرگرمیاں معطل اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔ میٹرو بس سروس بھی ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر دوسرے روز معطل رہی، جبکہ فیض آباد کے اطراف ہوٹل اور ریسٹورنٹس بند کر دیے گئے۔
فیض آباد انٹرچینج، ایکسپریس وے، آئی جے پی روڈ، کھنہ پل، کری روڈ اور ڈھوک کالا خان کے راستے تاحال بند ہیں۔ وارث خان، کمیٹی چوک، شمس آباد، شاہین چوک، صدر اور پرانے ایئرپورٹ کی طرف آنے والے تمام راستے بھی سیل کیے جا چکے ہیں۔
راولپنڈی انتظامیہ نے شہر میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے، جبکہ ایئرپورٹ جانے والے راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دیے گئے ہیں۔ جڑواں شہروں میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی دوسرے روز معطل رہی۔
ادھر لاہور سمیت پنجاب بھر میں سیکیورٹی خدشات کے باعث پولیس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بڑے پیمانے پر سرچ، سویپ اور کومبنگ آپریشن کیے۔ ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق 343 کومبنگ آپریشنز میں 9 ہزار 745 مشتبہ افراد کی چیکنگ کی گئی، جن میں سے 32 مشکوک افراد کو حراست میں لیا گیا۔
مزید بتایا گیا کہ 25 سرچ اینڈ سویپ آپریشنز میں 2 ہزار 730 سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کی گئی اور 2 مشتبہ افراد گرفتار ہوئے۔ پولیس کے مطابق کارروائیوں کے دوران سنگین جرائم میں ملوث 281 اشتہاری، 66 عدالتی مفرور اور 32 عادی مجرمان کو بھی گرفتار کیا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے بھاری مقدار میں ناجائز اسلحہ اور گولیاں برآمد ہوئیں۔ کارروائیوں کے دوران 3 مجرمان ہلاک، 4 زخمی اور 3 گرفتار کیے گئے۔ آئی جی پنجاب نے ہدایت دی ہے کہ جرائم پیشہ اور ملک دشمن عناصر کے خلاف یہ آپریشنز جاری رکھے جائیں۔
دوسری جانب لاہور میں تحریک لبیک پاکستان کے "لبیک یا اقصیٰ مارچ" کے دوران حالات کشیدہ ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق شاہدرہ میں راوی پُل کے قریب پولیس اور رینجرز کی جانب سے فائرنگ، شیلنگ اور تیزابی پانی کے استعمال کی اطلاعات ملی ہیں۔
رکنِ شوریٰ علامہ فاروق الحسن قادری کے مطابق فجر سے اب تک فائرنگ کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق اور 50 زخمی ہوئے، جن میں سے 20 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
سربراہ تحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی نے کہا کہ "گولی کیوں چلائی جا رہی ہے؟" ان کا کہنا تھا کہ "کراچی سے خیبر تک تمام مسلمان دیکھ لیں کہ ظلم کی انتہا ہو گئی ہے، سب باہر نکلیں اور پوچھیں کہ گولی کیوں چلائی گئی۔"
مزید پڑھیں: تحریک لبیک کا لانگ مارچ راوی روڈ پہنچ گیا، سعد رضوی اور انس رضوی کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج
تحریک لبیک پاکستان کے ترجمان نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے خواتین اور کم سن بچیوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کے مطابق بانی تحریک علامہ خادم حسین رضویؒ کی اہلیہ و بیٹیوں اور موجودہ سربراہ حافظ سعد رضوی کی اہلیہ و دو کم سن بیٹیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ترجمان نے الزام لگایا کہ سرکاری اداروں نے مسجد اور گھر پر چڑھائی کر کے توڑ پھوڑ کی، جو آئین، قانون اور اسلامی اقدار کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان آئین، قانون اور اسلامی اصولوں کے احترام کی قائل ہے اور فلسطین کے حق میں اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔
ٹی ایل پی کے مشتعل مظاہرین کا راستہ روکنے کے لیے سرائے عالمگیر میں جی ٹی روڈ کو توڑ کر خندق بنادی گئی ہے۔
ٹی ایل پی کے ایک اور ترجمان کا کہنا ہے کہ اب تک ہمارے 25 کارکن مارے جاچکے ہیں جبکہ 200 سے زائد زخمی ہیں۔ ہمارے کارکنوں پر سیدھے فائر کیے جارہے ہیں۔
اسپتالوں کے قریب وقفے وقفے سے فائرنگ اور شیلنگ کا سلسلہ تاحال جاری ہے، پولیس و رینجرز کی فائرنگ کے باعث مزید شہادتوں کا خدشہ ہے، اسپتال لے جائے گئے شدید زخمیوں اور شہداء کی لاشوں کو پولیس نے مبینہ طور پر اغوا کر لیا، حکومت حسبِ سابق ظلم و جبر کی پالیسی دہرا رہی ہے۔
مارچ کو روکنے کے لیے خندقوں کی کھدائی
وسطی پنجاب کے مختلف اضلاع میں ایک حکمت عملی کے تحت انتظامیہ نے ٹی ایل پی کے احتجاجی مارچ کو روکنے کے لیے جگہ جگہ سڑکوں پر خندقوں کی کھدائی کی ہے۔
گوجرانوالہ پولیس کی ایک ٹیم نے سادھوکی کے مقام پر ناکہ بندی کر رکھی ہے جہاں آج کھدائی کر کے جی ٹی روڈ کو توڑا گیا ہے اور خندق بنائی گئی ہے۔
گذشتہ شب قافلے نے شاہدرہ پل پر قیام کیا تھا اور اس کے بعد اگلا پڑاؤ گوجرانوالہ میں چند دا قلعہ کے مقام پر متوقع تھا۔ گوجرانوالہ کی ضلعی انتظامیہ نے چند دا قلعہ چوک سے پہلے جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف کھدائی کر کے بڑی خندقیں کھود دی ہیں جس سے اس مقام سے جی ٹی روڈ سے گاڑی کا گزارنا ناممکن ہوگیا ہے۔
اسی طرح کی خندقیں وزیر آباد اور گجرات کو ملانے والے دریائے چناب کے پل کے دونوں اطراف، کھاریاں میں جی ٹی روڈ پر اور دریائے جہلم کے پل کے دونوں اطراف بھی کھودی گئی ہیں۔
کھدائی کرنے کے لیے محکمہ لوکل گورنمنٹ، محکمہ انہار اور محکمہ ہائی ویز کی کرینیں استعمال کی جا رہی ہیں۔
مگر خندقیں کھودنے اور کنٹینرز لگنے سے وسطی پنجاب کے مختلف اضلاع کا آپس میں رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا
اطلاعات ہیں کہ گوجرانوالہ اور کھاریاں میں ہیوی کرینوں سے جو خندقیں کھودی گئی ہیں ان کی وجہ سے پی ٹی سی ایل کی ٹیلی فون کی تاروں کو نقصان پہنچا اور سرکاری عملہ تاروں کی مرمت کرتا دکھائی دیا۔
ادھر سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ایئرپورٹ کا فضائی آپریشن مکمل طور پر فعال ہے اور اس میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا۔







