نجی نشریاتی ادارے ایکسپریس نیوز کے مطابق ایس ایس پی انور کھتران کا کہنا تھا کہ اب تک نو ڈاکوؤں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ مزید سات ڈاکوؤں کی لاشوں کی تلاش جاری ہے جو دریائی اور دشوار گزار علاقوں میں پڑی ہیں اور مجموعی طور پر اس آپریشن میں نو سے 16 ڈاکو ہلاک ہوئے ہیں۔

ایس ایس پی انور کھتران نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں میں بکھرانی گینگ کا سرغنہ چھلو بکھرانی بھی شامل ہے، جس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر تھی۔ اس کے علاوہ ہلاک ڈاکوؤں میں ازان آرزو، ہزارو سکھانی، گمنی گوپانگ اور شاہ مراد شامل ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ کارروائی میں 25 لاکھ روپے کے انعام یافتہ ڈاکو ظفر عرف ظفری جھبیل اور بہادر عمرانی بھی مارے گئے۔

پولیس کے مطابق آپریشن کے دوران 27 ڈاکو زخمی بھی ہوئے۔ سیکیورٹی فورسز نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے جبری اور ہنی ٹریپ کے ذریعے اغوا کیے گئے نو مغویوں کو بھی بازیاب کرا لیا۔ ذرائع کے مطابق فی مغوی ایک کروڑ روپے تاوان طلب کیا جا رہا تھا۔

ایس ایس پی انور کھتران نے بتایا کہ ڈرون سرویلنس کی مدد سے مغویوں کو کچے کے جزیروں سے بازیاب کرایا گیا۔

پولیس کے مطابق اس دوران زخمی ڈاکوؤں کا علاج کرنے کے لیے اغوا کیے گئے ڈاکٹر ڈسپنسری طارق رشید اور شاہد علی کو بھی بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔

حکام کے مطابق کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے مکمل خاتمے کے لیے سرچ اور کلیئرنس آپریشن بدستور جاری ہے۔