اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران اویس لغاری نے کہا کہ نیپرا رپورٹ میں کے-الیکٹرک کو جو کلین چٹ دی گئی ہے، وہ حقائق کے منافی ہے۔ سرکلر ڈیٹ میں اضافے سے کے-الیکٹرک کو بری الذمہ قرار دینا سراسر غلط ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جون 2023 تک کے-الیکٹرک کی عدم ادائیگیوں کی وجہ سے سرکلر ڈیٹ میں 640 ارب روپے کا بوجھ بڑھا اور کمپنی کی جانب سے بروقت ادائیگی نہ کرنا اس بحران میں بنیادی کردار رکھتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نیپرا نے کے-الیکٹرک کے لیے بہت آسان ریگولیٹری اہداف مقرر کیے، لیکن اس کے باوجود کارکردگی تسلی بخش نہیں رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے پانچ برسوں میں کے-الیکٹرک کو دی جانے والی 600 ارب روپے سے زائد سبسڈی قومی خزانے اور عوام پر اضافی بوجھ ہے۔

اویس لغاری کے مطابق سرکلر ڈیٹ میں اضافے کی ذمہ داری کے باعث کے-الیکٹرک اور دیگر ڈسکوز پر ڈیٹ سروس سرچارج عائد کیا گیا ہے۔