اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران اویس لغاری نے کہا کہ نیپرا رپورٹ میں کے-الیکٹرک کو جو کلین چٹ دی گئی ہے، وہ حقائق کے منافی ہے۔ سرکلر ڈیٹ میں اضافے سے کے-الیکٹرک کو بری الذمہ قرار دینا سراسر غلط ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جون 2023 تک کے-الیکٹرک کی عدم ادائیگیوں کی وجہ سے سرکلر ڈیٹ میں 640 ارب روپے کا بوجھ بڑھا اور کمپنی کی جانب سے بروقت ادائیگی نہ کرنا اس بحران میں بنیادی کردار رکھتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ نیپرا نے کے-الیکٹرک کے لیے بہت آسان ریگولیٹری اہداف مقرر کیے، لیکن اس کے باوجود کارکردگی تسلی بخش نہیں رہی۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی پریس کانفرنس، نپیرا رپورٹ سے متعلق حقائق کی وضاحت، پاور سیکٹر کی اصل صورتحال اور حکومتی اہداف پر مؤقف واضح کرتے ہوئے۔ pic.twitter.com/SuOqAvj8tJ
— Awais Leghari (@akleghari) January 18, 2026
ان کا کہنا تھا کہ پچھلے پانچ برسوں میں کے-الیکٹرک کو دی جانے والی 600 ارب روپے سے زائد سبسڈی قومی خزانے اور عوام پر اضافی بوجھ ہے۔
اویس لغاری کے مطابق سرکلر ڈیٹ میں اضافے کی ذمہ داری کے باعث کے-الیکٹرک اور دیگر ڈسکوز پر ڈیٹ سروس سرچارج عائد کیا گیا ہے۔







