اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
حکام کے مطابق منگل کی شب 9 بج کر 21 منٹ پر طیارہ ریڈار پر تیزی سے نیچے آتا ہوا دکھائی دیا اور اس کا رخ اچانک تبدیل ہوا، جس کے بعد کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں اس سے ریڈار اور مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا۔
پاکستان نیوی کے ترجمان کے مطابق لاپتا طیارے کی تلاش بلوچستان کے ساحلی شہر اورماڑہ کے جنوب میں بحیرۂ عرب میں جاری ہے۔ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار، پی این ایس حنین اور اے ٹی آر طیارہ حصہ لے رہے ہیں، جب کہ پاک فضائیہ بھی اس آپریشن میں معاونت کر رہی ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ سمندر میں شدید طغیانی کے باعث ریسکیو کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، تاہم مختلف ادارے مشترکہ طور پر تلاش کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔
لاپتا ہونے والا طیارہ بوئنگ 737-400 کارگو طیارہ ہے، جو کراچی میں قائم نجی فضائی کمپنی کے ٹو ایئرویز کی ملکیت ہے۔ کمپنی کے مطابق طیارے میں عملے کے پانچ ارکان سوار تھے، جن میں پائلٹ محمد رضوان ادریس، فرسٹ آفیسر فیصل محمود، لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان، انجینیئر عارف صدیقی اور انجینیئر محمد حامد شامل ہیں۔
ریڈار سے غائب ہونے کا کیا مطلب ہوتا ہے؟
ماہرینِ ہوا بازی کے مطابق کسی طیارے کا ریڈار سے غائب ہونا لازمی طور پر اس کے تباہ ہونے کا ثبوت نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ طیارے کا ایئر ٹریفک کنٹرول سے ریڈار یا مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
حتمی طور پر حادثے کی وجہ جاننے کے لیے طیارے کا ملبہ، فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (بلیک باکس)، کاک پٹ وائس ریکارڈر اور دیگر شواہد کا ملنا ضروری ہوتا ہے۔
فلائٹ ریڈار کے اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟
فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق طیارے کے آخری لمحات غیر معمولی تھے۔ دستیاب ڈیٹا کے مطابق طیارہ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں تقریباً 5 ہزار فٹ نیچے آیا، پھر صرف 30 سیکنڈ میں تقریباً 6 ہزار فٹ اوپر گیا، جس کے بعد 36 ہزار 550 فٹ کی بلندی سے انتہائی تیزی سے نیچے آنا شروع ہو گیا۔
آخری موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق طیارہ صرف ایک ہزار 100 فٹ کی بلندی پر تھا اور اس کی عمودی رفتار تقریباً 22 ہزار 400 فٹ فی منٹ ریکارڈ کی گئی، جو انتہائی غیر معمولی تصور کی جاتی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ان اعداد و شمار کی بنیاد پر حادثے کی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق پرواز نے منگل کی رات 9 بج کر 18 منٹ پر نیوی گیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی، جس کے بعد کراچی ایریا کنٹرول سینٹر نے فوری طور پر طیارے کی رہنمائی شروع کی۔
تین منٹ بعد طیارہ ریڈار پر تیزی سے نیچے آتا ہوا نظر آیا اور اس کا رخ اچانک تبدیل ہوا، جس کے بعد اس سے ہر قسم کا رابطہ منقطع ہو گیا۔ واقعے کے فوراً بعد ریسکیو کوآرڈی نیشن سینٹر کو فعال کر کے بحیرۂ عرب میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔
طیارے کے بارے میں کیا معلوم ہے؟
کے ٹو ایئرویز کراچی میں قائم ایک نجی کارگو ایئرلائن ہے، جسے 2018 میں ایئرلائن چارٹر لائسنس جاری کیا گیا تھا۔ کمپنی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر طارق مجید راجہ ہیں۔
لاپتا ہونے والا بوئنگ 737-400 طیارہ 1999 میں روسی ایئرلائن ایروفلوٹ کے لیے مسافر طیارے کے طور پر تیار کیا گیا تھا، جب کہ 2012 میں اسے کارگو طیارے میں تبدیل کیا گیا۔ یہ 2024 میں کے ٹو ایئرویز کے بیڑے میں شامل ہوا تھا اور کمپنی کا واحد طیارہ ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ طیارہ بوئنگ 737 میکس سے دو نسل پرانا ماڈل ہے، جس میں سی ایف ایم انٹرنیشنل کے تیار کردہ انجن نصب ہیں۔






