کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق شادی کی تقریبات میں صرف ون ڈش پیش کی جائے گی، جب کہ فارمیسی، اسپتال، کلینک، میڈیکل لیبارٹریز، بیکری، تندور، دودھ اور ڈیری شاپس، پیٹرول پمپس، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور دیگر ضروری شعبوں کو مقررہ اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت نے کمیٹی برائے نگرانی و عملدرآمد برائے ایندھن بچت و اضافی کفایت شعاری کی سفارشات پر فوری عملدرآمد کی ہدایت کی ہے۔

نوٹیفکیشن کے تحت سرکاری گاڑیوں کے لیے تین ماہ تک ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد کمی کی جائے گی۔ اس اقدام سے مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں، ضروری خدمات اور ایف بی آر کی بعض آپریشنل گاڑیوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔

مالی سال 2026-27 کے دوران نان ای آر ای بجٹ میں 5 فیصد کمی کی جائے گی، جس کی کٹوتی ماہانہ بنیادوں پر ہوگی، تاہم ترقیاتی منصوبے اس کٹوتی سے مستثنیٰ ہوں گے۔ یہ اقدام بیرونِ ملک پاکستانی مشنز اور وہاں تعینات افسران و اہلکاروں پر بھی لاگو ہوگا، تاہم رہائش کے کرائے، تعلیمی فیس اور طبی سہولیات سے متعلق واجبات کی ادائیگی جاری رہے گی۔

حکومت نے تمام اقسام کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کردی ہے، جب کہ تمام پائیدار اشیا کی خریداری بھی ممنوع ہوگی۔ تاہم آئی ٹی سے متعلق خریداری اس پابندی سے مستثنیٰ ہوگی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق تین ماہ کے لیے بیرونِ ملک تمام سرکاری دوروں اور سفر پر پابندی ہوگی، حتیٰ کہ لازمی نوعیت کے دورے بھی اس پابندی میں شامل ہوں گے۔ تاہم اسکالرشپس اور بعض تربیتی یا ادارہ جاتی پروگرامز کے تحت ہونے والے دورے مستثنیٰ ہوں گے۔ ناگزیر بیرونِ ملک دوروں کی صورت میں متعلقہ وزرا اور سرکاری حکام کو اکانومی کلاس میں سفر کرنا ہوگا۔

حکومت نے سرکاری اجلاسوں کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ کو ترجیح دینے کی ہدایت کی ہے، جب کہ غیر ملکی وفود کے علاوہ سرکاری عشائیوں کی میزبانی پر پابندی ہوگی۔

اسی طرح حکومت کے فنڈز سے ہونے والے سرکاری سیمینارز، تربیتی پروگرامز اور کانفرنسز پر پابندی ہوگی۔ ناگزیر سرکاری تقریبات کے لیے سرکاری آڈیٹوریم اور کمیٹی رومز استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز اور بازار رات 9 بجے بند ہوں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیز اور دیگر تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند کرنا ہوں گے۔

ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس رات 11 بجے بند ہوں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری سروسز کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

فارمیسی، میڈیکل اسٹورز، میڈیکل سپلائی اسٹورز، میڈیکل لیبارٹریز، کلینکس اور اسپتال اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

اسی طرح بیکری، تندور، دودھ اور ڈیری شاپس، پیٹرول و سی این جی پمپس، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز، جم، کھیلوں کی سہولیات، آئی ٹی کمپنیاں اور کال سینٹرز بھی مقررہ بندش کے اوقات سے مستثنیٰ رہیں گے۔

حکومت نے کفایت شعاری اقدامات سے استثنیٰ کی درخواستوں کو کیس ٹو کیس بنیاد پر زیر غور لانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ صوبائی اور علاقائی حکومتوں کو بھی اسی نوعیت کے اقدامات اپنانے پر غور کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔