تقریب میں صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل، پارلیمانی سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب سلمیٰ سعدیہ تیمور، بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئیں۔
جب کہ سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، نائب صدر خرم لودھی، سابق نائب صدر طاہر منظور چوہدری، ایگزیکٹو کمیٹی ممبران آمنہ رندھاوا، فردوس نثار، عامر علی، عمر سرفراز اور دیگر کاروباری و سماجی شخصیات بھی موجود تھیں۔
شرکاء میں رفعت ملک، سیدہ روزی رضوی، سلمہ بخاری، گل خان، عائشہ ہارون، میاں خلیل ابیر، راجہ حسن اختر، شاہد بیگ، ارشد بیگ سمیت دیگر افراد نے شرکت کی۔
صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے اپنے خطاب میں کہا کہ خواتین معاشرے کا اہم ترین جزو ہیں اور کسی بھی ملک کی ترقی میں ان کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے لاہور چیمبر میں خصوصی تقریب جمعہ کو منعقد کی جائے گی، لاہور چیمبر ہمیشہ اپنی خواتین ممبران کی رہنمائی اور معاونت کے لیے عملی اقدامات کرتا رہا ہے تاکہ وہ کاروباری میدان میں بھرپور کردار ادا کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کی عورت نہ صرف گھریلو ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھا رہی ہے بلکہ کاروبار، صنعت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہے۔
تاہم انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ خواتین کو اب بھی کاروبار کے میدان میں معلومات کی کمی، مالی وسائل تک محدود رسائی اور مؤثر رہنمائی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت اس آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا تاکہ خواتین کو حکومت اور مالیاتی اداروں کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات، اسکیموں اور پالیسیوں کے بارے میں مکمل آگاہی دی جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی معاشی خودمختاری نہ صرف انفرادی سطح پر بہتری لاتی ہے بلکہ قومی معیشت کو بھی مضبوط بناتی ہے، کیونکہ جب خواتین کو مساوی مواقع ملتے ہیں تو وہ ملکی ترقی میں فعال کردار ادا کرتی ہیں۔
مہمانِ خصوصی سلمیٰ سعدیہ تیمور نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستانی معاشرہ روایتی طور پر مرد غالب رہا ہے، تاہم خواتین نے اپنی صلاحیتوں کے ذریعے ہر شعبے میں اپنی قابلیت منوائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں خواتین کی ترقی، تحفظ اور معاشی خودمختاری کو حکومتی پالیسیوں میں مرکزی حیثیت دی گئی ہے اور تمام محکموں کو خواتین کے لیے خصوصی پروگرام متعارف کرانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے خواتین کے تحفظ اور سہولت کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں جن میں ورچوئل پولیس اسٹیشنز، سیف سٹی کے تحت پینک بٹن سسٹم، پولیس اسٹیشنز میں ویمن ڈیسک، خواتین کے لیے خصوصی ہیلپ لائن 1043، الیکٹرک بس سروس میں مفت سفر، ای ٹیکسی اور ای بائیک اسکیمیں، آسان کاروبار فنانسنگ پروگرام، سکل ڈویلپمنٹ پروگرامز اور ویمن انکیوبیشن سینٹرز شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ورکنگ ویمن ہاسٹلز، ڈے کیئر سینٹرز، تربیتی پروگرامز، آئی ٹی اور ووکیشنل ٹریننگ، بینک اکاؤنٹس کی سہولت اور خواتین کے لیے قانونی معاونت جیسے اقدامات کا مقصد خواتین کو محفوظ اور خودمختار بنانا ہے تاکہ وہ معاشی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کر سکیں۔
تقریب کے اختتام پر مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خواتین کی ترقی کے لیے حکومت، نجی شعبے اور معاشرے کے تمام طبقات کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ایک ایسا ماحول تشکیل دیا جا سکے جہاں خواتین بلا خوف و خطر تعلیم، روزگار اور کاروبار کے مواقع حاصل کر سکیں۔







