اسلام آباد میں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان کو اس اہم عالمی اسلامی کانفرنس کی میزبانی کرنے پر فخر ہے۔ انہوں نے کانفرنس میں شریک مختلف اسلامی ممالک کے مندوبین کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور امید ظاہر کی کہ یہ اجلاس خواتین کے حقوق اور ترقی کے حوالے سے مشترکہ اقدامات کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان او آئی سی کی چیئرمین شپ کی ذمہ داری کو باہمی تعاون، اتفاقِ رائے اور مشترکہ سوچ کے ساتھ آگے بڑھائے گا، مسلم ممالک کے درمیان تعاون کے ذریعے خواتین کو تعلیم، روزگار، صحت، معاشی مواقع اور قیادت کے میدان میں مزید آگے لایا جا سکتا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اسلام نے صدیوں پہلے خواتین کو عزت، وقار، حقوق اور قانونی شناخت فراہم کی، مسلم تاریخ میں خواتین نے علم، تحقیق، تجارت، سیاست اور سماجی خدمت کے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا اور آج بھی دنیا بھر میں مسلم خواتین مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔
وفاقی وزیر نے موجودہ دور کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کئی حصوں میں آج بھی خواتین اور بچیاں تعلیم، صحت، معاشی مواقع اور فیصلہ سازی کے عمل میں رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر خاتون اور بچی کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستان
انہوں نے کہا کہ خواتین کی معاشی خودمختاری، سیاسی شمولیت اور سماجی تحفظ کے بغیر پائیدار ترقی کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے، حکومت پاکستان خواتین کو بااختیار بنانے، ان کے حقوق کے تحفظ اور انہیں قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے او آئی سی کے ویمن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن اور خواتین کی ترقی سے متعلق ایکشن پلان کو اہم پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے رکن ممالک کے درمیان تجربات کے تبادلے اور مشترکہ حکمت عملی بنانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ او آئی سی کی یہ وزارتی کانفرنس مسلم دنیا میں خواتین کی ترقی، تحفظ اور بااختیاری کے لیے نئے راستے متعین کرے گی اور رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دے گی۔







