دفترِ خارجہ کے مطابق یہ اجلاس نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔ اجلاس میں سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود، ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی شرکت کریں گے۔
دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں علاقائی اور عالمی امور کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کی جائے گی، تاہم کشیدگی میں کمی لانے کی کوششوں کو خاص اہمیت حاصل ہوگی۔ دورے کے دوران مہمان وزرائے خارجہ وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔
حکام کے مطابق یہ اجلاس ابتدا میں ترکی میں ہونا تھا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ رابطوں میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کے باعث اسے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔ اس پیش رفت کے بعد یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ پاکستان مستقبل قریب میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی میزبانی کر سکتا ہے۔
پاکستان اس سفارتی عمل میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے اور انقرہ و قاہرہ کے ساتھ مل کر کردار ادا کر رہا ہے۔ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ رابطے پہلے ہی پاکستان کے ذریعے جاری ہیں، جبکہ امریکا کی جانب سے پیش کردہ 15 نکاتی فریم ورک ایران کے زیر غور ہے۔
یہ سفارتی پیش رفت 19 مارچ کو ریاض میں عرب اور مسلم ممالک کے اجلاس کے دوران چار ملکی نظام کے قیام کے بعد سامنے آئی، جس کا آغاز دفاعی تعاون کے لیے کیا گیا تھا تاہم اب اسے وسیع کر کے مکالمے اور علاقائی استحکام کے فروغ تک بڑھا دیا گیا ہے۔
At the invitation of Pakistan’s Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar, the Foreign Ministers of Saudi Arabia, Türkiye, and Egypt will visit Islamabad from 29–30 March.
— Tahir Andrabi (@TahirAndrabi) March 28, 2026
The distinguished leaders will engage in comprehensive discussions on a wide range…
حالیہ دنوں میں پاکستان نے سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ اسحاق ڈار نے اپنے ترک اور مصری ہم منصبوں سے علیحدہ علیحدہ رابطے کیے اور امن کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی گفتگو کی، جنہوں نے پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت کی۔
چین نے بھی اسلام آباد کی کوششوں کی حمایت کی ہے، جہاں وزیر خارجہ وانگ یی نے ایران کو مذاکرات کی طرف آنے کی ترغیب دی۔ اسی طرح کویت کے ولی عہد شیخ صباح الخالد الحمد الصباح نے بھی وزیر اعظم شہباز شریف سے گفتگو میں پاکستان کے اقدام کی حمایت کا اظہار کیا۔
متعدد اہم ممالک کی حمایت کے ساتھ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امریکا و ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں میں مرکزی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔







