قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عالمی سطح پر امن کی جانب پیش رفت خوش آئند ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے،  بعض قوتیں ایسی بھی موجود ہیں جو خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کو ہوا دینا چاہتی ہیں، جن کے عزائم کو ناکام بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس نے جنگ، دہشت گردی اور بدامنی کے تباہ کن اثرات کو قریب سے دیکھا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف طویل اور مشکل جنگ میں پاکستانی عوام اور سیکیورٹی اداروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، اسی لیے پاکستان ہمیشہ مذاکرات، امن اور علاقائی استحکام کا حامی رہا ہے، جب خطے میں امن قائم ہوتا ہے تو تجارت، سرمایہ کاری اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں جن سے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچتا ہے۔

بلاول بھٹو نےانڈیا  کی جانب سے بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپریشن "سندور ٹو" جیسی دھمکیاں خطے کے امن کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں، پاکستان کو مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے قومی سلامتی کے معاملے پر تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت نے حکومت کے ساتھ اتفاق کیا ہے کہ قومی دفاع اور ملکی مفادات کے تحفظ کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا، زور دیا کہ موجودہ حالات سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمتِ عملی کے متقاضی ہیں۔

معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی حکومت کو مالی مشکلات درپیش ہیں تو صوبے بھی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں، اٹھارویں آئینی ترمیم کے باوجود صوبوں کو ان کا مکمل اور جائز مالی حصہ فراہم نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح کے اقدامات متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں نے بارہا قومی مفاد میں قربانیاں دی ہیں اور آج بھی ملکی استحکام کیلئے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ مختلف آئینی اور سیاسی معاملات پر وفاق اور صوبوں کے درمیان مشاورت کے ذریعے حل نکالے گئے ہیں، جو جمہوری عمل کی کامیابی کی علامت ہے۔

مزید پڑھیں: ایران امریکہ معاہدہ: ٹرمپ اور پزشکیان کے بعد شہباز شریف کے مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط

بلاول بھٹو نے خیبر پختونخوا حکومت کے حالیہ فیصلوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبائی قیادت نے سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر قومی مفاد کو ترجیح دی،  پاکستان تحریکِ انصاف کے اس رویے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد کو مقدم رکھیں تو پاکستان کو درپیش ہر چیلنج کا کامیابی سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

اپنے خطاب کے دوران انہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی کارکردگی کا بھی تفصیلی ذکر کیا اور کہا کہ یہ پاکستان کا سب سے مؤثر سماجی تحفظ کا منصوبہ بن چکا ہے جسے عالمی سطح پر بھی سراہا جاتا ہے، بین الاقوامی ادارے بھی اس پروگرام کو غربت کے خاتمے اور کمزور طبقوں کی معاونت کیلئے ایک کامیاب ماڈل قرار دیتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ لاکھوں مستحق خاندان اس پروگرام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور قدرتی آفات، سیلاب اور کورونا وبا جیسے بحرانوں کے دوران بھی بی آئی ایس پی نے متاثرہ افراد تک امداد پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ غربت اور معاشی مشکلات کے خاتمے کیلئے اس پروگرام کو محدود کرنے کے بجائے مزید وسعت دی جانی چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے بی آئی ایس پی کے دائرۂ کار اور فنڈز میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے اور وزیرِ اعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مختلف قسم کے منفی پراپیگنڈے کے باوجود اس فلاحی پروگرام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ بلاول بھٹو نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے بی آئی ایس پی کو تنقید کا نشانہ بنانا نہ صرف غیر مناسب بلکہ ان لاکھوں مستحق خاندانوں کے ساتھ ناانصافی ہے جو اس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی فلاح، قومی یکجہتی، معاشی استحکام اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ پاکستان ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔