اس کے برعکس ناقدین اسے معاشی مشکلات کے دور میں عوامی نمائندوں کے لیے غیر معمولی مراعات قرار دے رہے ہیں۔ یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آخر اس قانون میں ایسا کیا ہے جس نے اسے متنازع بنا دیا؟

خیبر پختونخوا اسمبلی ایکٹ 2026 کیا ہے؟

یہ نیا قانون صوبائی اسمبلی کے ارکان، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، وزیر اعلیٰ، وزراء، مشیروں، معاونین خصوصی اور پارلیمانی سیکریٹریز کی تنخواہوں، الاؤنسز، سفری سہولیات، رہائش، طبی اخراجات اور دیگر مراعات کو ایک ہی قانونی دستاویز میں منظم کرنے کے لیے منظور کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے مختلف مراعات الگ الگ قوانین اور نوٹیفکیشنز کے تحت دی جاتی تھیں۔

کن مراعات میں تبدیلی کی گئی؟

قانون کے تحت مختلف مالی مراعات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جن میں بنیادی تنخواہوں میں اضافہ، ہاؤس رینٹ اور یوٹیلیٹی الاؤنس، سفری الاؤنس، سرکاری گاڑی یا ٹرانسپورٹ کی سہولت، طبی اخراجات کی ادائیگی، سرکاری رہائش یا اس کے مساوی الاؤنس، پنشن اور دیگر ریٹائرمنٹ مراعات کے طریقہ کار میں تبدیلی شامل ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان مراعات کو موجودہ مہنگائی اور دیگر صوبوں کے معیار کے مطابق کیا گیا ہے۔

حکومت کا مؤقف کیا ہے؟

حکومتی ارکان کے مطابق ارکان اسمبلی عوامی نمائندے ہوتے ہیں اور انہیں اپنے حلقوں میں مسلسل سفر، عوامی ملاقاتوں اور انتظامی امور کے لیے وسائل درکار ہوتے ہیں۔

مختلف صوبوں میں ارکان اسمبلی کی مراعات میں پہلے ہی فرق موجود تھا، جسے کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ نیا قانون مالی معاملات کو قانونی اور شفاف بناتا ہے۔

تنقید کیوں ہو رہی ہے؟

اپوزیشن جماعتوں، سماجی تنظیموں اور کئی معاشی ماہرین نے اس قانون پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق صوبہ پہلے ہی مالی دباؤ کا شکار ہے۔ صحت، تعلیم اور روزگار جیسے شعبوں میں وسائل محدود ہیں۔ ایسے وقت میں منتخب نمائندوں کی مراعات میں اضافہ عوام کو غلط پیغام دیتا ہے۔

بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ جب عام سرکاری ملازمین اور پنشنرز مہنگائی سے متاثر ہوں تو عوامی نمائندوں کی مراعات بڑھانا سیاسی طور پر حساس فیصلہ ہے۔

کیا صرف خیبر پختونخوا میں ایسا ہوا ہے؟

نہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور وفاقی سطح پر بھی ارکان اسمبلی اور وزراء کی تنخواہوں اور مراعات میں مختلف اوقات میں اضافہ کیا جا چکا ہے۔

اسی وجہ سے خیبر پختونخوا کا قانون بھی ایک وسیع قومی بحث کا حصہ بن گیا ہے کہ کیا عوامی نمائندوں کی تنخواہیں کسی آزاد کمیشن کے ذریعے طے ہونی چاہئیں؟

قانون پر عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر اس قانون کے حق اور مخالفت دونوں میں رائے سامنے آئی۔ ایک طبقے کا کہنا ہے کہ اگر ارکان اسمبلی کو مناسب قانونی سہولیات ملیں گی تو وہ بہتر انداز میں عوامی خدمت انجام دے سکیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل ضرورت عوامی خدمات، صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری کی ہے، نہ کہ منتخب نمائندوں کی مراعات میں اضافے کی۔

آگے کیا ہوگا؟

اگر قانون نافذ العمل رہتا ہے تو نئی تنخواہیں اور مراعات سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق ادا کی جائیں گی۔ تاہم امکان ہے کہ اپوزیشن اس معاملے کو اسمبلی اور عدالتوں میں چیلنج کرے، حکومت کو اس فیصلے کا سیاسی دفاع کرنا پڑے۔ دیگر صوبوں میں بھی اسی نوعیت کے قوانین پر نئی بحث شروع ہو۔

خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی ایکٹ 2026 صرف تنخواہوں میں اضافے کا قانون نہیں بلکہ عوامی وسائل، حکومتی ترجیحات اور منتخب نمائندوں کی مراعات کے درمیان توازن پر ایک نئی بحث بھی ہے۔

حامی اسے ارکان اسمبلی کے لیے جدید اور منظم مالی نظام قرار دے رہے ہیں، جب کہ مخالفین کے نزدیک یہ ایسے وقت میں لیا گیا فیصلہ ہے جب عوام مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قانون اسمبلی سے نکل کر اب عوامی اور سیاسی مباحثے کا حصہ بن چکا ہے۔