نجی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ منصوبے رواں سال کے دوران مکمل کیے گئے، جن میں لوئر دیر میں 40.8 میگاواٹ کا کوٹو ہائیڈرو پاور منصوبہ، ضلع شانگلہ میں 11.8 میگاواٹ کا کروڑہ ہائیڈرو پاور منصوبہ اور ضلع مانسہرہ میں 10.2 میگاواٹ کا جبوری ہائیڈرو پاور منصوبہ شامل ہیں۔
ان منصوبوں سے متعلق تفصیلات سیکریٹری انرجی اینڈ پاور خیبر پختونخوا نثار احمد نے پیڈو ہاؤس میں صوبے میں جاری سات ہائیڈرو پاور منصوبوں کی پیش رفت کے جائزے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے فراہم کیں۔
سیکریٹری توانائی نے بتایا کہ سوات کوریڈور کے ساتھ ساتھ 40 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن پر کام کی رفتار بھی تیز کر دی گئی ہے، جس کے آئندہ سال تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کی تکمیل کے بعد صوبے کے صنعتی شعبے کو کم لاگت بجلی فراہم کرنا ممکن ہو جائے گا، جس سے صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا۔
اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پی ای ڈی او) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حبیب اللہ شاہ نے بتایا کہ صوبے میں ہائیڈرو پاور کے متعدد بڑے منصوبے ترقی کے مختلف مراحل میں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں میں ضلع مانسہرہ میں 300 میگاواٹ کا بالاکوٹ ہائیڈرو پاور منصوبہ، سوات میں 157 میگاواٹ کا مدین ہائیڈرو پاور منصوبہ، کالام میں 88 میگاواٹ کا جبریل ہائیڈرو پاور منصوبہ، سوات میں 84 میگاواٹ کا مٹلٹان ہائیڈرو پاور منصوبہ، چترال میں 69 میگاواٹ کا لاوی ہائیڈرو پاور منصوبہ اور ضلع تورغر میں 6.9 میگاواٹ کا مجاہدین ہائیڈرو پاور منصوبہ
شامل ہیں۔
سیکریٹری انرجی اینڈ پاور نثار احمد نے ضلع سوات میں توانائی کے تین فلیگ شپ منصوبوں پر سست پیش رفت پر سخت برہمی کا اظہار کیا، جن سے مجموعی طور پر 330 میگاواٹ بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان منصوبوں سے آئندہ دو سال کے اندر بجلی کی پیداوار شروع کرنے کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مزید تاخیر کسی صورت قابل قبول نہیں ہو گی اور متعلقہ پراجیکٹ ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
نثار احمد نے پی ای ڈی او کے حکام کے درمیان مؤثر ٹیم ورک پر زور دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ توانائی صوبائی حکومت کے گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت گانٹ چارٹس کے ذریعے تمام جاری منصوبوں کی فزیکل پیش رفت کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کر رہا ہے۔
انہوں نے مٹلٹان سے مدین تک 40 کلومیٹر طویل 132/220 کے وی ٹرانسمیشن لائن منصوبے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اس منصوبے کو آئندہ سال کے اندر مکمل کیا جائے۔
اس کے علاوہ، سیکریٹری توانائی نے 300 میگاواٹ بالاکوٹ ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے نئے تعینات پراجیکٹ ڈائریکٹر کو صوبے کی سب سے بڑی توانائی اسکیم پر کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت بھی کی۔
اجلاس کے دوران نثار احمد نے پی ای ڈی او کے انتظامی امور میں شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے اضافی ہدایات بھی جاری کیں، تاکہ منصوبوں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی کارکردگی میں بھی بہتری لائی جا سکے۔






