وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے پی ٹی آئی کے سینیئر رہنماؤں نے ملاقات کی جس میں بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، جنید اکبر، شہرام ترکئی اور عاطف خان سمیت دیگر موجود تھے۔
ملاقات میں ہنگو میں شہید پولیس افسر اور جوانوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔
ملاقات میں صوبے میں دہشت گردی اور امن وامان کی صورتحال زیر غور آئی جبکہ صوبائی کابینہ کی تشکیل اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد کابینہ تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا اورپی ٹی آئی رہنما نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کی رائے کے بغیر کابینہ بنانے سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، پارلیمانی پارٹی نے صوبائی بجٹ کی منظوری دی تھی لیکن بعد میں مسائل پیدا ہوئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے امن جرگہ بلانے کا فیصلہ کیا جس میں سیاسی جماعتوں، اسٹیک ہولڈرز اور قبائلی عمائدین کوشرکت کی دعوت دی جائے گی جبکہ جرگے میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو بھی مدعو کیا جائے گا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقات دو گھنٹے سے زائد جاری رہی جس میں صوبے میں دہشت گردی اور سیاسی صورتحال پرغور کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ملاقات میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے مختلف آپشنز بھی زیر غور آئے۔
اعتماد میں لیے بغیر کیا گیا ایک بھی فیصلہ نہیں مانیں گے: سہیل آفریدی
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ حکومت، عوام، پارلیمان کواعتماد میں لیے بغیر کیا گیا ایک بھی فیصلہ نہیں مانیں گے۔
چارسدہ میں جلسے سے خطاب میں سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ جس دن وزیراعلیٰ کے لیے میرا نام آیا تو کہا گیا ہمیں قبول نہیں، مجھے ان قبول نہ کرنے والوں کی فکر نہیں، اپنی عوام سے پوچھتا ہوں کہ قبول ہوں یا نہیں؟ آج ثابت ہوا کہ میں عوام کو قبول ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میرے خلاف پاکستان بھر میں پروپیگنڈا کیا گیا، مجھے دہشتگرد بنانے کی ناکام کوشش کی گئی اورکہا گیا کہ نااہل ، ناتجربہ کار بچہ ہوں ڈیلیور نہیں کرسکتا۔
ان کا کہنا تھاکہ خیبرپختونخوا میں تمام فیصلے بانی پی ٹی آئی کے وژن کے مطابق ہوں گے، مجھے اپنے لیڈر سے عدالتی احکامات کے باوجود ملنے نہیں دیا گیا، میں نے عوام کی عدالت میں جانے اور اپنا مقدمہ ان کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا، ہمیں اعتماد میں لیے بغیر بند کمروں کے فیصلےنہیں مانیں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ مایوس نہ ہوں ملک میں حقیقی آزادی آئین و قانون کی بالادستی لائیں گے، ملک اور قوم پر ظلم و جبرکرنے والوں کو انصاف کےکٹہرے میں لاؤں گا، حکومت ،عوام، پارلیمان کواعتماد میں لیے بغیر کیا گیا ایک بھی فیصلہ نہیں مانیں گے۔







