پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ احتجاج کا مفہوم صرف سڑکوں پر نکلنا، پولیس سے تصادم یا گولیوں کا سامنا کرنا نہیں، بلکہ منظم ہڑتال اور نظام سے اجتماعی لاتعلقی بھی ایک مؤثر اور تاریخی طور پر آزمودہ سیاسی حکمتِ عملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ  گزشتہ پانچ سو سال کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اگر پچیس کروڑ عوام یہ اجتماعی فیصلہ کر لیں کہ وہ ظلم پر مبنی نظام سے لین دین بند کر دیں، دکانیں نہ کھولیں، ٹیکسیاں اور رکشے نہ چلائیں اور گھروں میں بیٹھ جائیں، تو کوئی بھی نظام نہیں چل سکتا۔

پی ٹی آئی رہنما نے واضح کیا کہ اس قسم کی مزاحمت روزانہ کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ ایک واضح لائحہ عمل اور منصوبہ بندی کے تحت کی جاتی ہے۔ آج خیبر پختونخوا مکمل طور پر بند رہا، جب کہ پنجاب اور دیگر علاقوں سے آنے والی اطلاعات بھی حوصلہ افزا ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں بھی وہ ناشتہ اور کھانے کی جگہیں بند رہیں جو عام حالات میں کھلی ہوتی ہیں۔

بسنت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں بسنت ہمیشہ فروری کے وسط میں منائی جاتی تھی، تاہم اس بار اسے ایک مخصوص سیاسی لبادہ دیا گیا ہے، جسے عوام بخوبی سمجھتے ہیں اور اس عمل سے موجود نفرت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال مسترد، عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا

پی ٹی آئی رہنما نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ایک شخص کے باہر نکلنے سے ہی عوامی تحریک جنم لیتی ہے۔ تحریک اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب ہر فرد خود کو لیڈر سمجھے، جیسا کہ بنگلہ دیش، نیپال، انڈونیشیا اور سری لنکا میں دیکھنے کو ملا۔

انہوں نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سڑکوں پر نکلے تو اس کے بعد گولیاں چلیں اور لوگ شہید ہوئے۔ اسی لیے وہ نہیں چاہتے کہ عوام اور بچوں کو تشدد اور ریاستی طاقت کے سامنے لا کھڑا کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک کا اصل مفہوم نظام سے بیزاری کا پرامن اظہار ہے، جس کے کئی راستے اور طریقے موجود ہیں۔