آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد پر 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں علاقے میں چھپے 10 خوارج ہلاک ہوئے۔
شمالی وزیرستان میں ایک اور کارروائی کے دوران مزید 7 خوارج مارے گئے، جبکہ کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والی دو مختلف جھڑپوں میں مزید 4 خوارج ہلاک ہوئے۔
شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق دراندازی کی کوشش کرنے والے ہلاک خوارج کی مجموعی تعداد 25 ہوگئی ہے۔ علاقے میں موجود دیگر دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشتگردی کی جا رہی ہے۔ افغان طالبان حکومت کو مؤثر سرحدی انتظام یقینی بنانا ہوگا، جبکہ طالبان حکومت دہشتگرد تنظیموں کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں خوارج کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔
صدر زرداری نے کہا کہ بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشتگردوں کے مذموم عزائم ہر قیمت پر ناکام بنائے جائیں گے۔ پاکستان کی سرحدوں کا دفاع اور دہشتگردی کا مکمل خاتمہ اولین ترجیح ہے، جبکہ افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی دہشتگردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ امن و استحکام کے خلاف دہشتگردوں کے مذموم عزائم ناکام بنانے پر قوم کو مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر فخر ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک ’عزمِ استحکام‘ کے وژن کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی۔







