صاحب، جس ملک میں پانچویں جماعت کا بچہ سیدھا جملہ نہ پڑھ سکے، وہاں مسئلہ نقشے کی لکیروں کا نہیں، بلکہ اس روشنائی کا ہے جو نصاب میں کبھی پہنچی ہی نہیں۔ مگر ہمارے ہاں روایت یہ ہے کہ جب اصل بیماری کی تشخیص مشکل ہو جائے تو مریض کا بستر بدل دیا جاتا ہے، امید پر کہ شاید نئی چادر سے بخار بھی اتر جائے۔ سو اب یہی تجربہ نئے انتظامی یونٹس کی صورت میں دہرایا جا رہا ہے۔
وزیرِ داخلہ نے نیویارک اور لندن کی مثالیں دے کر بتایا کہ ممدانی اور صادق صاحب بھی اب آئیں گے، یعنی گویا میئرشپ کا ماڈل ایسا جادو ہے جو صرف سرحد پار کر لے تو گورننس کے تمام امراض کا علاج کر ڈالے۔ اُدھر ماہرین یاد دلا رہے ہیں کہ آئین کے مطابق مقامی حکومتوں کا فیصلہ بہرحال صوبے ہی کریں گے، سو یہ محض ایک اور آئینی موشگافی ہے جس پر بحث جاری رہے گی، فیصلہ بعد میں کبھی آئے گا۔
اِدھر پیپلز پارٹی سیخ پا ہے، فریال تالپور صاحبہ سندھ کی تقسیم کو 'غداری' قرار دے چکی ہیں، اُدھر خواجہ آصف صاحب نے مشورہ دیا ہے کہ تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کیا جائے یعنی گھر کی مرغی دال برابر، مگر پڑوسی کا صوبہ تقسیم کے لائق۔ فواد چوہدری صاحب کو نقوی صاحب کے لہجے میں معذرت خواہی محسوس ہوئی، تو فہد حسین صاحب کو وہی لہجہ 'پختہ ارادے' کی علامت لگا۔ گویا ایک ہی تقریر، اور اُتنے ہی تعبیر جتنے سننے والے۔
سب سے دلچسپ نکتہ مگر وہ ہے جو زاہد اسلام صاحب نے اٹھایا: کہ نئے صوبے بھی بنا لیں اور اختیار پھر بھی ایک ہی دربار میں مرتکز رہے، تو حاصل کیا ہوگا؟ بالکل ویسے ہی جیسے کسی پرانے مکان کے کمرے تقسیم کر دیں مگر بجلی کا مین سوئچ وہیں کا وہیں رہے، روشنی پھر بھی وہیں سے ملے گی جہاں سے پہلے ملتی تھی، بس دیواریں اضافی کھڑی ہو جائیں گی۔
ریفرنڈم کا آپشن بھی زیرِ گردش ہے، اور یہ سن کر ہمیں وہ پرانا لطیفہ یاد آتا ہے کہ جب سوال ہی ایسا بنایا جائے کہ جواب پہلے سے طے ہو، تو ریفرنڈم محض ایک باوقار تصدیق نامہ بن جاتا ہے۔ بہرحال، تجزیہ کار متفق ہیں کہ کوئی بڑا فیصلہ فی الفور متوقع نہیں، بحث آہستہ آہستہ پکے گی، اور سیاسی جماعتوں کو رفتہ رفتہ اپنا اپنا موقف طے کرنے پر آمادہ کیا جائے گا یعنی گویا کڑاہی میں گوشت کم اور مصالحہ زیادہ ڈال کر پکایا جا رہا ہے، تاکہ ذائقہ آہستہ آہستہ عادت بن جائے۔
بہرحال، اِس پوری کہانی کا نچوڑ یہی ہے کہ نظام کو 'ری سیٹ' کرنے کی باتیں ہمارے ہاں ہر چند سال بعد لوٹ کر آتی ہیں، تھوڑی نئی اصطلاحات کے ساتھ، تھوڑے نئے چہروں کے ساتھ۔ اصل سوال البتہ وہی پرانا رہتا ہے، جو شاید سب سے کم دلچسپ لگتا ہے۔ کیا اقتدار کا مرکز واقعی بکھرے گا؟ یا محض نقشے پر چند نئی لکیریں کھینچ کر ہم سب کو مطمئن کر دیا جائے گا کہ چلو، کچھ تو بدلا؟







