لاہور میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آج دھرنے میں خواتین کی تعداد مردوں سے بھی زیادہ ہے، کراچی، سکھر اور حیدرآباد میں بھی دھرنے جاری ہیں، جب کہ سوات میں گزشتہ روز عظیم الشان جلسہ ہوا اور کل سے وہاں بھی دھرنا شروع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں بھی دھرنے کی صورت میں ان کا خطاب سنا جاتا ہے اور آئندہ ایک دو روز میں راولپنڈی میں بھی دھرنا شروع ہوجائے گا۔ سیاسی جماعتیں سمجھتی تھیں کہ جماعت اسلامی کا دھرنا چند روز تک جاری رہے گا، لیکن احتجاج اب ملک کے مختلف علاقوں تک پھیل چکا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اس وقت نہ انتخابات ہیں اور نہ جماعت اسلامی کو اپنے لیے کچھ چاہیے، بلکہ وہ عوامی مسائل کے لیے احتجاج کررہے ہیں۔ انہوں نے ملک میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بجلی پیدا کرنے کی واضح صلاحیت موجود ہونے کے باوجود عوام لوڈشیڈنگ کا سامنا کررہے ہیں، جو حکمرانوں کی بدترین نااہلی کا ثبوت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومتی کمیٹی سے ملاقات ہوچکی ہے اور پیر سے مذاکرات شروع ہوں گے، تاہم جماعت اسلامی مذاکرات کے چکروں میں نہیں آئے گی اور دھرنے جاری رکھے جائیں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے آئندہ پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑی تو پورا ملک بند کردیں گے۔ انہوں نے پٹرولیم لیوی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم لیوی کا پٹرول کی قیمتوں سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ حکومت نے جنگ کا بہانہ بنا کر قیمتیں بڑھائیں اور عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو محفوظ سفری سہولیات میسر نہیں اور مہنگائی عروج پر ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے سندھ کی سیاسی صورتحال پر بھی پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو قیامت کے دن پوچھیں گی کہ ان کے قاتل گرفتار کیوں نہیں کیے گئے۔
مزید پڑھیں: ’پٹرولیم لیوی‘ بھتہ ٹیکس کے خلاف جماعتِ اسلامی کی تحریک: 'دھرنے جاری رہیں گے، مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس سات ستمبر کو ہوگا'، لیاقت بلوچ
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کو سندھ نہیں بلکہ سندھ کے وسائل اور کرپشن چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور سندھ خاندانوں کی اجارہ داری بن چکے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پیپلز پارٹی لاڑکانہ، نوڈیرو اور شہدادکوٹ سمیت سندھ کے کسی علاقے کو درست نہیں کرسکی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کراچی کو لوٹنے کے لیے اسے سندھ کا حصہ سمجھتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’سندھی، مہاجر‘ کے نام پر ڈرامے بازی بند کی جائے اور عوام کو اختیار دیا جائے۔ دونوں جماعتوں نے سندھ کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔







