نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق سانگھڑ میں جب سلمان اکرم راجا سے سوال کیا گیا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے، اس پر پی ٹی آئی کا کیا مؤقف ہے؟

سلمان اکرم راجا نے جواب دیا کہ پی ٹی آئی اس عمل میں اس وقت تک شامل نہیں ہوگی جب تک بانی پی ٹی آئی کی رائے سامنے نہیں آجاتی۔

انہوں نے کہا کہ پہلے بانی پی ٹی آئی کو مکالمے میں شامل کیا جائے، اس کے بعد بات ہوگی۔ پی ٹی آئی سندھ کے عوام اور ان کے حقوق کے ساتھ کھڑی ہے۔

سلمان اکرم راجا نے موجودہ اسمبلی کے مینڈیٹ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اس اسمبلی کو تسلیم نہیں کرتی۔ پارٹی نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کو بھی تسلیم نہیں کیا۔

انہوں نے موجودہ اسمبلی کو ’فارم 47 اسمبلی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے شفاف انتخابات کرائے جائیں اور عوام کے حقیقی نمائندوں کو اسمبلیوں میں لایا جائے، اس کے بعد نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے معاملے پر بات کی جائے۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ نئے صوبے آئینی ترمیم کے بغیر نہیں بن سکتے اور موجودہ اسمبلیوں کو آئینی ترمیم کرنے کا حق حاصل نہیں۔