صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ 79 سال میں ملک کی آبادی اور ضروریات میں بے پناہ اضافہ ہوا، لیکن ہم یہ ماننے کو تیار نہیں کہ اس عرصے میں ملک کتنا ایکسپینڈ کرچکا ہے۔ آبادی بڑھنے کے ساتھ انتظامی نظام کو بھی وسعت دینا ہوگی۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 80 سال پہلے ایک خاندان ایک گھر میں رہتا تھا، آج وہی خاندان کئی گھروں میں تقسیم ہوچکا ہے۔ خاندان بڑھتا ہے تو ایک گھر سے دو، دو سے چار اور چار سے آٹھ گھر بنتے ہیں، لیکن آبادی اور ضروریات بڑھنے کے باوجود ہم انتظامی یونٹس بڑھانے پر تیار نہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ ہم تحصیلیں بنانے کے لیے تیار ہیں، ڈویژن بنانے کے لیے تیار ہیں اور نئے اضلاع بنانے کے لیے بھی تیار ہیں، لیکن جب نئے انتظامی یونٹس کی بات آتی ہے تو اعتراض شروع ہوجاتا ہے۔ ان کے مطابق انتظامی یونٹس بنانے کی مخالفت کی بہت سی وجوہات سیاسی ہیں، تاہم وہ ان سیاسی وجوہات کی تفصیل میں نہیں جائیں گے۔
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ ایک ماہ پانچ دن پہلے جب انہوں نے نظام کو ری سیٹ کرنے کی بات کی تھی تو ان کا اشارہ کسی ایک سیاسی جماعت، حکومت یا سیاسی بندوبست کی طرف نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ مختلف شخصیات نے ان کی بات کو موجودہ حکومت یا کسی سیاسی جماعت سے جوڑا، حالانکہ ان کا اشارہ 79 سال سے چلنے والے انتظامی نظام کی طرف تھا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اگر 79 سال بعد بھی نظام مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرپا رہا تو اس کا جائزہ لینا ہوگا۔ ری سیٹ کا مطلب نظام کو ختم یا توڑنا نہیں بلکہ جہاں خرابی ہے اسے درست کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر انسان اپنے گھر کے نظام کا جائزہ لیتا ہے کہ وہ درست چل رہا ہے یا نہیں، اسی طرح اگر کوئی کمپنی درست کام نہ کرے تو لوگ بیٹھ کر دیکھتے ہیں کہ اسے کیسے بہتر اور منافع بخش بنایا جائے۔ ملک کے نظام کا بھی وقتاً فوقتاً جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان میں پوٹینشل بہت ہے، حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، پالیسیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، بجٹ آتے ہیں اور منصوبے بنتے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آخر میں ہم کتنا ڈلیور کر پاتے ہیں اور حکومتی نظام کا عام آدمی پر کتنا اثر پڑ رہا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ جب اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کی بات آتی ہے تو سب کو اعتراض ہوجاتا ہے، تاہم یہ اعتراض ختم کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی سے ہی عوامی مسائل مؤثر انداز میں حل ہوسکتے ہیں۔ انتظامی اصلاحات کا مقصد اختیارات کو عوام کے قریب لے کر جانا ہے۔
محسن نقوی کے مطابق آبادی دنیا میں پانچویں نمبر پر پہنچ گئی ہے لیکن انتظامی نظام اسی رفتار سے نہیں بڑھا۔ آبادی میں اضافے کے ساتھ انتظامی نظام کو بھی وسعت دینا ہوگی۔
محسن نقوی نے نوجوانوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب یوتھ کی بات کرتے ہیں، لیکن نوجوان بنیادی طور پر ہم سے روزگار مانگتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوجوان کا پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ روزگار کہاں ہے اور جاب اپورچونٹیز کہاں دستیاب ہیں۔ نوجوان یہ بھی جاننا چاہتا ہے کہ دستیاب ملازمتیں میرٹ پر ملیں گی یا نہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے اپنے ہی علاقے میں روزگار کے مواقع دستیاب ہونا ضروری ہیں۔ ہمیں نوجوانوں کے روزگار، میرٹ اور مقامی سطح پر مواقع کے سوال کا جواب دینا ہوگا۔
محسن نقوی نے ملک میں بنیادی سہولیات کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 79 سال بعد بھی پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی ہر 10 میں سے 4 بچوں کو مناسب غذا فراہم نہیں کرسکے، جو ہمارے لیے بڑا سوال ہے۔ اسی طرح صرف 55 فیصد پاکستانیوں کو صاف پانی دستیاب ہے اور ملک کی بڑی آبادی آج بھی صاف پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ تعلیمی نظام کی صورتحال یہ ہے کہ پانچویں جماعت کا بچہ عام جملے بھی نہیں پڑھ پاتا، جبکہ بچوں کی پڑھنے کی صلاحیت کے حوالے سے حکومت کے اپنے سروے بھی موجود ہیں۔ ایجوکیشن کے موجودہ معیار پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستانی عدالتوں میں آج بھی 20 لاکھ کیسز زیر التوا ہیں اور لوگ انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی والدین اپنے بچوں کی تعلیم اور صحت سمیت انصاف کے لیے پریشان ہیں۔ ہمارے والدین بنیادی سہولیات کے لیے اسی طرح منتظر ہیں جیسے ہمارے آباؤ اجداد 79 سال پہلے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اصل سوال یہ ہے کہ 79 سال بعد بھی ہم بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کہاں کھڑے ہیں۔
محسن نقوی نے واضح کیا کہ یہ کسی ایک حکومت کا نتیجہ نہیں بلکہ 79 سال کا مجموعی نتیجہ ہے۔ 79 سالہ نظام کی کارکردگی کو صرف کسی ایک حکومت سے جوڑنا درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہ اعداد و شمار ہیں جنہیں سرکاری طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اور حکومت ان مسائل پر قابو پانے کے لیے دن رات کوشش کررہی ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ صوبہ اسلام آباد کے سب سے بڑے حامی ہیں۔ ان کے مطابق اسلام آباد کے شہریوں کو این ایف سی سے ایک روپیہ بھی نہیں ملتا اور اسلام آباد واحد شہر ہے جسے پاکستان کے کسی صوبائی بجٹ سے بھی ایک روپیہ نہیں ملتا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اسلام آباد کے شہری پاکستان کے شہری نہیں ہیں؟
محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد کا نظام سی ڈی اے اپنی زمینیں بیچ کر چلا رہی ہے۔ اگر کسی شہری کو این ایف سی کا حصہ نہیں مل رہا تو وہ اسلام آباد کے شہری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو صوبائی حیثیت دینے کا معاملہ ایک سنجیدہ کیس ہے اور اگر نئے صوبے بنانے کی بات ہورہی ہے تو اسلام آباد کے کیس کی بھی سب کو حمایت کرنی چاہیے۔ اس معاملے پر سب کو مل کر کوشش کرنی چاہیے۔
محسن نقوی نے کہا کہ میئر بننے والے شخص کو حکومت چلانے کا تجربہ اور عوامی مسائل کا زیادہ ادراک ہوتا ہے۔
ان کے مطابق منتخب میئرز عام عوام کے مسائل کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں کیونکہ انہیں ان مسائل کا براہ راست تجربہ ہوتا ہے جو اکثر سیاست دانوں اور حکمرانوں کو معلوم نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ میئر کو اپنے علاقے کے مسائل کا براہ راست علم ہوتا ہے اور اسی تجربے کی بنیاد پر مقامی سطح پر حکمرانی کا نظام بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ ممدانی اب آئیں گے اور صادق خان بھی آئیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس عہدے پر رہیں یا نہ رہیں، اس معاملے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اپنے مؤقف سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ کل یا پرسوں ہونے والا کوئی فیصلہ نہیں بلکہ اس پر سنجیدہ بحث اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر جذباتی تقاریر سے گریز کیا جائے۔ پہلے ان کے فوائد اور نقصانات کا جائزہ لیا جائے، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بیٹھ کر بحث کرنی چاہیے اور تمام پہلوؤں پر غور کے بعد ایک واضح تجویز عوام کے سامنے رکھی جائے۔
محسن نقوی کے مطابق نئے انتظامی یونٹس کے سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر عوام ہیں، اس لیے فیصلہ بھی عوام کی رائے سے ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگوں کی رائے سے زیادہ عوام کی رائے اہم ہے۔ عوام چاہے گی تو نیا انتظامی یونٹ بنے گا اور عوام نہیں چاہے گی تو نہیں بنے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام کسی انتظامی تبدیلی کے حق میں فیصلہ دے تو اسے تسلیم کرنا چاہیے اور اگر عوام اسے مسترد کرے تو ہمیں بھی کہنا چاہیے کہ یہ نہیں ہونا چاہیے۔
محسن نقوی نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے میں اصل اختیار عوام کی رائے کا ہونا چاہیے۔ آن لائن سامنے آنے والی تجاویز اور بحث سے ہٹ کر معاملے کو سنجیدگی سے ڈسکس کرنا ہوگا اور پہلے اتفاق رائے پیدا کرکے معاملہ عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔
محسن نقوی نے واضح کیا کہ کسی غیر آئینی اقدام کی بات نہیں کی گئی۔ ہم سب آئین کے تحفظ کا حلف اٹھاچکے ہیں اور کوئی غیر آئینی اقدام نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے انتظامی اصلاحات کے لیے بہت کچھ کیا جاسکتا ہے اور نظام میں اصلاحات جمہوری طریقے سے کرنا ہوں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ نظام کو ری سیٹ کرنے کا مطلب نظام کو ختم یا توڑنا ہرگز نہیں بلکہ جو چیز غلط ہے اسے درست کرنا اور نظام کو مؤثر بنانا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر انتظامی نظام کی بہتری پر توجہ دینا ہوگی، کیونکہ اصل مقصد کسی حکومت یا سیاسی بندوبست کو تبدیل کرنا نہیں بلکہ عام آدمی کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔







