اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ان کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے بات ہو چکی ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت عارضی طور پر صرف تین ماہ کا بجٹ منظور کرائے گی۔

انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 125 حکومت کو محدود مدت کے لیے بجٹ پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے، اسی لیے فی الحال تین ماہ کا بجٹ پاس کیا جائے گا۔

ان کے مطابق اگر 30 جون تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہو سکی تو خیبرپختونخوا میں تین ماہ کا عبوری بجٹ پیش کیا جائے گا۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا اور کسی بھی اہم سیاسی یا مالی فیصلے میں انہیں شامل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے معاہدے میں خطے کے مختلف ممالک نے مثبت کردار ادا کیا، جبکہ پاکستان اور قطر کا کردار خاص طور پر قابلِ ستائش رہا۔

سلمان اکرم راجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تحریک انصاف آئینی اور جمہوری طریقے سے اپنے مؤقف پر قائم رہے گی اور بانی پی ٹی آئی کی مشاورت کے بغیر حتمی بجٹ کی منظوری نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب حکومت پنجاب نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کر دیا، جس کا مجموعی حجم 5903 ارب روپے سے زائد رکھا گیا ہے۔