نجی نشریاتی ادارے ایکسپریس کے مطابق حکام کا کہنا تھا کہ حملہ جمعرات کی رات خضدار سے تقریباً 80 کلومیٹر دور نال کے علاقے کلیڑی میں پیش آیا۔ درجنوں مسلح افراد نے پہلے شاہراہ بند کی، ٹریفک روکی اور پھر ایک تعمیراتی کمپنی کے کیمپ اور کرش پلانٹ پر دھاوا بول دیا۔ کمپنی خضدار سے ضلع واشک کے علاقے بسیمہ تک سڑک کی تعمیر میں مصروف تھی، جو صوبے کے اہم ترقیاتی منصوبوں میں سے ایک ہے۔
لیویز انچارج علی اکبر کے مطابق حملہ آوروں نے کرش پلانٹ میں موجود گاڑیوں اور مشینری کو نذرِ آتش کر دیا، جس سے کم از کم 8 گاڑیاں اور بھاری آلات تباہ ہوئے۔ مسلح افراد وہاں موجود مزدوروں کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے۔
تعمیراتی کمپنی ڈی بلوج کے منیجر ذوالفقار احمد نے بتایا کہ ابتدا میں 20 مزدوروں کو اغوا کیا گیا، تاہم بعد ازاں دو کو رہا کردیا گیا، جب کہ 18 مزدور تاحال لاپتا ہیں۔
اطلاع ملتے ہی لیویز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں۔
حکام کے مطابق اغوا شدہ مزدوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، جس میں مقامی قبائلی عمائدین کی مدد بھی حاصل کی جا رہی ہے۔ تاہم اب تک کوئی تنظیم اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کر سکی۔
واضح رہے کہ بلوچستان کے اس علاقے میں ماضی میں بھی بلوچ عسکریت پسند گروہ سرگرم رہے ہیں، جو حکومتی منصوبوں اور غیر مقامی مزدوروں کو نشانہ بناتے ہیں۔
حالیہ واقعہ صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ صرف ایک ہفتے میں یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ چند روز قبل مستونگ کے علاقے دشت میں بھی نو مزدوروں کو اغوا کیا گیا تھا، جو تاحال بازیاب نہیں ہو سکے۔
یوں ایک ہفتے کے دوران اغوا ہونے والے مزدوروں کی مجموعی تعداد 27 تک پہنچ گئی ہے۔ ان واقعات نے نہ صرف مزدوروں بلکہ صوبے میں کام کرنے والی کمپنیوں میں بھی خوف کی لہر دوڑا دی ہے۔
حکومتِ بلوچستان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کی فوری گرفتاری کی یقین دہانی کرائی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایسے حملے صوبے کی ترقیاتی سرگرمیوں کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہیں، جنہیں روکنے کے لیے سیکیورٹی حکمت عملی مزید سخت کی جا رہی ہے۔






