پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت معیشت کو دستاویزی بنانے اور پائیدار اصلاحات کے ذریعے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی بنیادی توجہ ٹیکس وصولی پر ہے، جبکہ ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے نکال کر فنانس ڈویژن کے تحت لایا گیا ہے تاکہ پالیسی سازی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کو 38 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، جبکہ رواں سال ترسیلات زر 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔

مزید پڑھیں: قومی ڈائیلاگ کے ذریعے بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینا ضروری ہے، اعظم نذیر تارڑ

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹیرف کے شعبے میں بڑی اصلاحات متعارف کرائی ہیں اور برآمدات پر مبنی معیشت کی جانب سفر کے لیے ٹیرف کی ریشنلائزیشن ناگزیر ہے، اگر ہم حقیقت پسندانہ انداز میں مسائل کو نہیں دیکھیں گے تو حل ممکن نہیں، اس لیے یہ ماننا ضروری ہے کہ ٹیکس اور توانائی کی قیمتیں کاروبار کے لیے بڑا مسئلہ بن رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ غیربینکنگ آبادی کو باقاعدہ مالیاتی نظام میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے،رواں سال جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے کی جائیں گی تاکہ شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ ہو۔

انہوں نے مزید   زور دیا کہ معاشی استحکام اور ترقی کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں اور حکومت مشکل مگر ضروری فیصلے کر رہی ہے تاکہ معیشت کو درست سمت میں ڈالا جا سکے۔