ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ دلخراش واقعہ پیر کے روز کوہاٹ کے نواحی پہاڑی گاؤں مالگین میں پیش آیا، جہاں شدید بارش کے باعث ایک خستہ حال کچے مکان کی چھت اچانک منہدم ہوگئی۔ حادثے کے وقت مکان میں ایک خاندانی تقریب جاری تھی، جس کے باعث بڑی تعداد میں افراد ایک ہی جگہ موجود تھے اور چھت گرنے سے متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔
اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122، مقامی انتظامیہ اور اہل علاقہ موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ کئی گھنٹوں کی مسلسل کوششوں کے بعد ملبے تلے دبے افراد کو نکالا گیا، تاہم 11 افراد جانبر نہ ہو سکے۔ جاں بحق افراد میں خواتین اور کمسن بچے بھی شامل ہیں، جس کے باعث علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں زخمی ہونے والے 12 افراد کو ملبے سے نکال کر فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد انہیں کوہاٹ کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔ زخمیوں میں بھی خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے، جبکہ بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب مسلسل بارشوں کے باعث صوبے کے مختلف علاقوں میں بھی نقصانات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ضلع اٹک میں بارش کے دوران ایک دیوار گرنے سے 5 افراد زخمی ہوگئے، جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
ادھر پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقوں میں شدید بارش کے بعد برساتی ندی نالوں میں طغیانی آگئی، جس کے باعث کئی رابطہ سڑکیں متاثر ہوئیں اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
مزید پڑھیں: کراچی میں ہر قسم کے رکشوں پر پابندی عائد کرنے کی تیاری
بارش کے باعث ملتان، ڈیرہ غازی خان اور مظفرگڑھ سمیت جنوبی پنجاب کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی، جہاں کئی فیڈرز ٹرپ ہونے سے شہریوں کو بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑا۔
ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم کے دوران خستہ حال اور کچے مکانات میں غیر ضروری قیام سے گریز کریں، جبکہ پہاڑی اور برساتی علاقوں میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔







