کراچی میں مولانا فضل الرحمان نے ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 52 سال قبل قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر خود کو احمدی اور لاہوری قرار دینے والوں کو غیرمسلم قرار دیا،  قومی اسمبلی نے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عالمی قوتوں اور پاکستان کی مقتدرہ کو بتانا چاہتا ہوں آپ جو سبق ہمیں پڑھانا چاہتے ہیں ہمیں قبول نہیں، ہم آپ کے خودساختہ ایجنڈے اور مقاصد کو خوب جانتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کئی مسائل کا سامنا ہے، ہمیں اپنی سرحدوں اور نظریات کا تحفظ کرنا ہے، ہمارے یہاں عنوان کچھ اور ہوتا ہے اور ایجنڈا کچھ ہوتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عالمی جنگوں میں ہزاروں افراد کو قتل کیا،امریکا افغانستان میں جنگ ہار گیا، سینکڑوں فلسطینی شہید کیے گئے، اسرائیل ناجائز ریاست ہے، امریکا نے ایران پر حملہ کیا، یمن سے سعودی عرب پرحملہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت کو پیغام دیتا ہوں کہ حرمین کے تحفظ کے لیے ہر پاکستانی آپ کے ساتھ ہے، حکمران امریکا اور یورپ کی نوکری کریں یا اپنے ملک کی، ایک نوکری کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں امن نہ ہو، ٹیکس لگ رہے ہوں، پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، دن میں کتنی دفعہ بڑھتی ہیں یہ بھی پتہ نہیں۔ اب قوم بھی تھک چکی ہے احتجاج کرتے کرتے۔

کیا کررہے ہیں حکمران، کیا کررہے ہو تم ملک کے ساتھ، مقتدرہ کی خوشامد کررہے ہو۔ کیا ووٹ، جمہوریت تمھاری عیاشیوں کے لیے ہے۔ جمہوریت عوام کے لیے ہے اور عوام اس وقت مظلوم ہیں۔ میں عام پاکستانی کی جنگ لڑرہا ہوں۔ اس جنگ میں ہر ایک پاکستانی نے شامل ہونا ہے۔