سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد فتنۂ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے چار انتہائی خطرناک دہشتگرد ہلاک کیے گئے۔ علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن مکمل کیا گیا۔
کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود، چار موٹر سائیکلیں، کالعدم تنظیم کے جھنڈے، غیر قانونی لٹریچر اور تخریبی مواد برآمد کیا گیا۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشتگرد شہر میں بڑی تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
دوسری جانب کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں نامعلوم مسلح افراد کے حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ سریاب روڈ پر پولیس کی گاڑی کو آگ لگا دی گئی جس میں دو اہلکار جان سے گئے، جبکہ ایک نجی گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم کے دو اہلکار زخمی ہوئے۔
مشرقی اور مغربی بائی پاس پر بھی فائرنگ کی اطلاعات ہیں، جبکہ مستونگ، نوشکی، خاران، دالبندی، قلات، پسنی اور ضلع کیچ کے مختلف علاقوں میں دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ تمپ میں پولیس تھانے پر حملے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔
ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔ سکیورٹی صورتحال کے باعث جعفر ایکسپریس اور کوئٹہ چمن پسنجر ٹرین منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ پشاور سے آنے والی جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد میں روک دیا گیا ہے۔







