رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی میں 8 ہزار آسامیوں کے لیے 2 لاکھ امیدواروں نے امتحان دیا اور ہر امیدوار سے ایک ہزار روپے فیس وصول کی گئی جس سے خطیر رقم جمع ہوئی۔
سامنے آنے والی دستاویزات کے مطابق اس امتحانی عمل میں اہلیت کے بجائے من پسند فیصلے کیے گئے۔
نجی نشریاتی ادارے آج نیوز کے مطابق بلوچستان بھر سے 600 امیدواروں کی امتحانی شیٹس موصول ہوئی ہیں جو واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ فیل ہونے والے امیدواروں کو پاس ظاہر کیا گیا جبکہ کم نمبروں والوں کو دانستہ طور پر اوپر رکھا گیا۔
مزید براں اس غیر شفاف اور جانبدارانہ عمل کے باعث ہزاروں اہل اور محنتی امیدواروں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بھرتی کے عمل میں ایک منظم نیٹ ورک سرگرم تھا لیکن اسکینڈل منظر عام پر آنے کے باوجود صرف یونیورسٹی کی وائس چانسلر کو عہدے سے ہٹایا گیا جبکہ اصل کردار اب تک پردے میں ہیں۔
واضع رہے کہ امیدوار اور ان کے والدین نے شفاف انکوائری اور بھرتیوں میں شامل تمام ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دی جانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ میرٹ کی پامالی کا ازالہ ممکن ہو سکے۔







