نجی نشریاتی ادارے اے آر وائی نیوز کے پروگرام خبر میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس سے متعلق موضوع پہلے ہی زیرِ بحث آ چکا ہے۔ ماڈرن ڈیموکریسی میں لوکل گورنمنٹ کا ڈھانچہ بہت سے کام انجام دیتا ہے، جب کہ 80 کی دہائی میں لوکل گورنمنٹ دوبارہ بحال ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت صوبائی اور وفاقی سطح کی قیادت بھی اسی لوکل نظام کا تسلسل ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ کراچی میں گراس روٹ لیول پر بلدیاتی نظام مربوط نہیں ہے۔ لوکل گورنمنٹ نظام کی شکل کیا ہونی چاہیے، اس پر بحث ہوگی۔ بلدیاتی نظام کے ذریعے بہت سے وسائل نچلی سطح پر منتقل ہوں گے، جس سے عوام کی بہتر خدمت ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بھی تاحال بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا کوئی بھی صوبہ صوبائیت کے نام پر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ صوبوں میں انتظامی یونٹس ہونے چاہییں۔ مثال کے طور پر ڈی جی خان کو کسی اور شہر کے ساتھ ملایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لسانی بنیادوں پر صوبے بنائے گئے تو ایک نیا پنڈورا باکس کھل جائے گا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ان کے خیال میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام پاکستان کے لیے خوش آئند ہوگا۔ وہ کسی کی ذاتی رائے نہیں بلکہ وہ بات کر رہے ہیں جو عملی طور پر ملک کے مفاد میں ہے۔ ان کے مطابق ایسا نظام تشکیل دیا جانا چاہیے جو موجودہ دور کے ساتھ ساتھ آئندہ 50 برس کی ضروریات بھی پوری کر سکے۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ اس وقت ملک میں ہائبرڈ ماڈل موجود ہے اور یہی سسٹم میں تبدیلی کی ضمانت ہے۔ ان کے مطابق بہت سے بڑے فیصلے آئندہ دو سے تین ماہ میں ہو جائیں گے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبوں کی بات تو کافی عرصے سے ہو رہی ہے، مگر محسن نقوی کی حمایت کو اتنی اہمیت کیوں دی جا رہی ہے؟ کیا سیاسی جماعتیں فعال بلدیاتی نظام قائم کریں گی یا اپنی بادشاہتوں سے دستبردار ہوں گی؟

خواجہ آصف نے کہا کہ ہائبرڈ سسٹم کی کامیابی اسی میں ہے کہ ملک میں مضبوط بلدیاتی نظام اور نئے صوبے قائم کیے جائیں۔ اگر آئندہ چار سے پانچ ماہ میں یہ اقدامات ہو گئے تو ایک نیا نظام سامنے آ سکتا ہے اور ہائبرڈ سسٹم کی کامیابی سے ملک میں سیاسی استحکام بھی آئے گا۔