سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کراچی سے بدتر تین شہروں میں سے دو اس وقت خانہ جنگی کا شکار ہیں، جب کہ تیسرے شہر میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد مؤثر اور بااختیار بلدیاتی نظام کو ختم کیا گیا، جب کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم میں بھی مؤثر مقامی حکومت کے کسی بھی تجویز کردہ نظام کی مخالفت کی گئی۔ سندھ کے کسی بھی حصے میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کا پیپلز پارٹی کا کوئی ارادہ نہیں۔
مفتاح اسماعیل نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی نے کراچی کے تمام رہائشیوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا، خواہ معاملہ سرکاری ملازمتوں، ترقیاتی منصوبوں یا پینے کے پانی کی فراہمی کا ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی 38 فیصد آبادی پر مشتمل کراچی کو صوبے کے پانی کے حصے میں سے ایک فیصد دینے پر بھی آمادگی نہیں، جو کسی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔
سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ اب بااثر حلقوں کی جانب سے اختیارات حقیقی معنوں میں نچلی سطح تک منتقل کرنے کی بات کی جا رہی ہے، خواہ یہ مقامی حکومتوں، انتظامی یونٹس یا نئے اور چھوٹے صوبوں کی صورت میں ہو۔ یہ عمل کہاں جا کر رکے گا، معلوم نہیں، تاہم صورتحال میں فوری طور پر کچھ نہ کچھ تبدیلی لانا ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: آئی ایس پی آر کا یہ کام نہیں کہ وہ صوبے بنائے، یہ اسمبلیوں کا کام ہے؛ سعید غنی
مفتاح اسماعیل نے نئے انتظامی یونٹس اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی مخالفت کرنے والوں کو کراچی میں ایک ماہ گزارنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں شہر کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، جگہ جگہ موجود کچرے، پینے کا پانی خریدنے کی مجبوری، پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی، مین ہولز میں گر کر بچوں کی ہلاکتوں اور گلیوں میں جمع گندے پانی کا سامنا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تھانے کا چکر لگانا، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے اجازت نامہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا یا جائیداد کا اندراج کروانا بھی انہیں کراچی کے مسائل کی سنگینی سمجھنے میں مدد دے گا۔ اس کے بعد ہی انہیں اندازہ ہوگا کہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں کراچی میں زندگی گزارنا کیسا ہے۔







