منعم ظفر خان نے کہا کہ پاکستان جن امیدوں اور تمناؤں کے ساتھ حاصل کیا گیا اور جس مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا، وہ آج تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکا۔ ان کے مطابق گزشتہ 79 برس سے وڈیرے، جاگیردار، خان اور سردار ملک کے وسائل پر قابض ہیں اور حکمرانوں نے پاکستان کو مختلف مسائل میں گھیر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی اور بھتہ ٹیکس اسی ظلم کی ایک شکل ہے۔ ان کے بقول عوام سے یہ اضافی ٹیکس وصول کرنے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان کو اس کی اصل منزل سے دور کردیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے دعویٰ کیا کہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 130 روپے تک بھتہ وصول کیا جا رہا ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے 1566 ارب روپے وصول کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کا قرض اتارنے کی بات کی جاتی ہے، لیکن دوسری جانب عام آدمی کے لیے زندگی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق عوام کا چولہا بجھ رہا ہے جبکہ حکمرانوں کی شاہ خرچیاں کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ ملک میں پیدا ہونے والا ہر بچہ تقریباً تین لاکھ روپے کا مقروض ہوتا ہے، جبکہ میڈیا سے وابستہ افراد، نوجوان، طلبہ اور مزدور سمیت معاشرے کا ہر طبقہ مشکلات کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرول کا مسئلہ صرف جماعت اسلامی کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک کے 25 کروڑ عوام کی آواز ہے۔ ان کے مطابق عوام کو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے جماعت اسلامی کے دھرنے میں شریک ہونا چاہیے۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ گزشتہ چار روز سے گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا جاری ہے، تاہم کوئی شیشہ نہیں ٹوٹا اور نہ ہی کوئی پتھر پھینکا گیا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج پرامن طریقے سے جاری رکھا جائے گا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا جاری رہے گا جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے پورے شہر میں گلی گلی رابطہ مہم بھی چلائی جائے گی۔

منعم ظفر خان کے مطابق امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن 21 اگست بروز جمعہ گورنر ہاؤس کے باہر جاری دھرنے میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ جمعے کو اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ احتجاج میں شرکت کریں۔