قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور سابق اسپیکر کی تقاریر کا خلاصہ یہی ہے کہ ہم سب کو مل کر چلنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ دس سال سے یہی بات کر رہے ہیں، لیکن ہمیں چور کہا جاتا رہا۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا اور ارب پتی لوگ سڑکوں پر آ گئے۔ انہوں نے کہا کہ دس سال کراچی میں جماعت اسلامی نے حکومت کی، جب کہ دس سال دوسری جماعت نے راج کیا، جس کے لوگ آج اسمبلی میں حیرانگی کے ساتھ تقاریر کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے کراچی پر ایک جماعت نے راج کیا، اس کے بعد دوبارہ جماعت اسلامی آگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی صدقہ، فطرانہ، چندہ اور کھالیں بھی جمع کرتی ہے اور یہ تمام رقم کراچی میں بینرز لگانے پر خرچ کر دیتی ہے۔ 35 سال تک دو جماعتوں نے کراچی پر راج کر کے شہر کو اس حال تک پہنچایا۔
عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ کراچی میں سب سے بڑی آگ بلدیہ ٹاؤن میں لگی تھی، جس میں 360 سے زائد افراد شہید ہوئے تھے۔ اس وقت میئر ہمارا نہیں تھا، پھر اس واقعے کا ذکر کیوں نہیں کیا جاتا اور اسے کیوں بھلا دیا جاتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ ٹمبر مارکیٹ میں آگ لگنے کے واقعے پر حکومتِ سندھ نے متاثرین کی مکمل معاونت کی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ گل پلازہ کراچی ایک منزلہ عمارت تھی، اس وقت نہ میئر ہمارا تھا اور نہ ہی متعلقہ ادارے کی سربراہی ہمارے پاس تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو حصوں میں تقسیم کیا، آمدورفت کا راستہ نہیں چھوڑا اور عمارت کی منزلیں بھی بڑھا دی تھیں۔
یہ پلازہ اس دور کی نشانی ہے جو آج آئینہ دکھا رہا ہے کہ اس کے ساتھ کیا کیا گیا۔ ملبے تلے دبے افراد کی روحیں بددعائیں دیتی رہیں گی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ چائنا کٹنگ کہاں سے آئی، پارک اور گراؤنڈ کس نے ختم کیے اور غیر قانونی پلاٹنگ کس نے کی؟







